اہم خبریں

سپریم کورٹ کی ہدایت، طیارہ حادثہ موت معاملے میں متوفی کی بیوی کو ملے گا 7.64 کروڑ روپے کا معاوضہ

نئی دہلی، 20 مئی (آئی این ایس انڈیا) ٹھیک 10 سال پہلے طیارہ حادثے میں ہوئی موت کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ایئر انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ متوفی کی بیوی کو 7 کروڑ 65 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ حادثہ دعویٰ معاملے میں متاثرہ کی کل آمدنی کے تجزیہ کی بنیاد پر معاوضہ طے ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ حادثہ دعویٰ(ایکسڈیٹ کلیم )کیس میں جب متاثرہ کی آمدنی کا اندازہ ہو تو پوری آمدنی کا تجزیہ ہونا چاہئے۔اسے جو بھی تنخواہ بھتہ ملتا ہے، اس کا اضافہ کر کے ہی معاوضہ طے کیا جائے گا۔اس آمدنی میں سے بھتہ نہیں ہٹایا جا سکتا ہے۔

دراصل، متوفی ایک بڑے ادارے میں ریجنل ڈائریکٹر تھا،وہ دبئی سے مینگلور آ رہا تھا۔ایئرانڈیا کی فلائٹ مینگلور ایئر پورٹ پر 22 مئی، 2010 کو حادثے کاشکارہو گیا اور اس واقعہ میں اس کی موت ہوگئی۔متوفی کی بیوی نے ایئرانڈیا سے معاوضہ مانگا۔ایئر انڈیا نے متوفی کی بیوی کو 4 کروڑ روپے معاوضہ دیا،ساتھ ہی 40 لاکھ والدین کو دئے۔متوفی کی بیوی نے نیشنل کنزیومر فورم کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 13 کروڑ 42 لاکھ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا۔کنزیومر فورم نے معاوضے کی رقم بڑھا دی، لیکن اس سے مطمئن نہیں ہونے پر معاملہ سپریم کورٹ آیا۔

سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے کہا گیا کہ نیشنل کنزیومر فورم نے معاوضہ طے کرتے ہوئے جو انکم کا تجزیہ کیا اس میں بھتہ کو کم کر دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ایکسڈیٹ کلیم کیس میں کل آمدنی کی بنیاد پر معاوضہ طے ہوگاایسے میں نیشنل کنزیومر فورم نے جو بھتہ کم کر دیا تھا وہ نہیں کاٹا جانا چاہئے۔سپریم کورٹ نے معاملے میں دئے فیصلے میں کہا کہ متوفی کی بیوی کو 7 کروڑ 64 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے۔واقعہ والے دن ادائیگی تک کی تاریخ کا اس رقم کا 9 فیصد سود بھی ادا کیا جائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close