اہم خبریں

ٹریکٹر ریلی: پولیس اورکسان تنظیموں کے مابین میٹنگ بے نتیجہ رہی

نئی دہلی21جنوری(آئی این ایس انڈیا) مرکزی زرعی قوانین کے خلاف یوم جمہوریہ کے موقع پرکسانوں کی طرف سے مجوزہ ٹریکٹر ریلی کے سلسلے میں جمعرات کو دہلی پولیس اور کسان تنظیموں کے درمیان بات چیت کا دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہاکیوں کہ کسان لیڈران اپنے موقف پر برقرارہیں کہ یہ ریلی 26 جنوری کو قومی دارالحکومت کے رنگ روڈ پر نکالی جائے گی۔پولیس اورکسان تنظیموں کے درمیان میٹنگ کے بعد ’سوراج ابھیان‘ کے رہنما یوگیندر یادو نے کہاہے کہ پولیس چاہتی ہے کہ کسان اپنی دہلی کے باہر اپنی ٹریکٹر ریلی نکالیں۔انہوں نے کہاہے کہ ہم اپنی پریڈ دہلی کے اندر پرامن طور پر چلائیں گے۔وہ دہلی کے باہر یہ ٹریکٹر ریلی چاہتے تھے ، جو ممکن نہیں ہے۔ذرائع نے بتایاہے کہ پولیس افسران نے کسانوں کی تنظیموں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ بیرونی رنگ روڈکی بجائے کنڈلی مانیسرپلوال ایکسپریس پر ٹریکٹر ریلی نکالی جائے۔اس میٹنگ میں شریک ایک کسان لیڈرنے کہاہے کہ حکومت ہماری ریلی دہلی سے باہرکرانے کی خواہاں ہے ، جبکہ ہم اسے دہلی کے اندر ہی منظم کرنا چاہتے ہیں۔جوائنٹ کمشنر آف پولیس (شمالی علاقہ) ایس ایس یادو نے یہ میٹنگ کی ہے۔یہ میٹنگ سنگھو بارڈر کے قریب ریسٹورنٹ میں ہوئی۔ اس میٹنگ میں اسپیشل کمشنر (لا اینڈ آرڈر۔ ناردرن ریجن) سنجے سنگھ ، اسپیشل کمشنر آف پولیس (انٹلیجنس) دیپندر پاٹھک اور دہلی ، ہریانہ اور اتر پردیش کے کئی دوسرے سینئر افسران نے شرکت کی۔اسی طرح بدھ کے روز یہاں وگیان بھون میں دہلی ، اترپردیش اور ہریانہ پولیس فورس کے کسان رہنماؤں اور افسران کے ذریعہ ایک میٹنگ ہوئی۔ذرائع نے بتایاہے کہ اس میٹنگ میں بھی پولیس عہدیداروں نے تجویز پیش کی کہ دہلی کی مصروف بیرونی رنگ روڈکی بجائے کنڈلی مانیسر پلولل ایکسپریس وے پر مجوزہ ٹریکٹر ریلی نکالی جائے ، جسے کسانوں نے مستردکردیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے دو ماہ سے ہزاروں کسان دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔احتجاج کرنے والے کسانوں کا الزام ہے کہ یہ قوانین منڈی نظام اور خریداری کے نظام کو ختم کردیں گے اور کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) پر کسانوں کو بڑے کارپوریٹ گھروں کے رحم و کرم پر رہنا پڑے گا۔ تاہم حکومت نے ان خدشات کو مسترد کردیا ہے۔کسانوں کی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش میں ، مرکزی حکومت نے بدھ کے روز مشتعل کسان تنظیموں کے سامنے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تاکہ ان قوانین کو ڈیڑھ سال سے معطل رکھا جائے اور حل سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جاسکے۔کسان قائدین نے حکومت کی اس تجویز کو فوری طور پر قبول نہیں کیالیکن کہاہے کہ وہ باہمی گفتگو کے بعد حکومت کے سامنے اپنی رائے پیش کریں گے۔ اب گیارہواں مرحلہ 22 جنوری کو ہوگا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close