اہم خبریں

دہلی فسادات: چارج شیٹ پڑھنے کیلئے کافی وقت نہیں دیا گیا، ملزمین نے عدالت کو بتایا

نئی دہلی، 19 جنوری (آئی این ایس انڈیا) شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے مقدمات میں غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) کے تحت مقدمے کا سامنا کرنے والے متعدد ملزمان نے منگل کو ایک عدالت کے روبرو دعویٰ کیا ہے کہ حکم ہونے کے باوجود انہیں جیل میں چارج شیٹ تک رسائی حاصل نہیںہے۔اسی دوران کچھ ملزمان نے دعوی کیا کہ انھیں چارج شیٹ پڑھنے کے لئے کافی وقت نہیں دیا گیا۔ ملزمان نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ جیل انتظامیہ کو ایک گھنٹہ سے زیادہ کا وقت دینے کی ہدایت دے تاکہ وہ جیل میں موجود کمپیوٹر سسٹم پر 1800 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پڑھ سکیں۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے 2 فروری کو کیس کی سماعت کے لئے درج کیا ہے۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کے دوران، ملزم خالد سیفی، سیف الرحمٰن اور شاداب احمد نے دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق جیل کمپیوٹر پر چارج شیٹ اپ لوڈ کی گئی ہے لیکن انہیں وہاں تک رسائی نہیں دی گئی۔ منڈولی جیل میں بند سعید نے کہاکہ پولیس حکام نے کمپیوٹر میں چارج شیٹ اپ لوڈ کی ہے لیکن جیل حکام نے اس تک رسائی کی اجازت نہیں دی ہے،پتہ نہیں چارج شیٹ میں کیا اپ لوڈ کردیاگیا ہے۔ آپ کے معطل کونسلر اور شریک ملزم طاہر حسین نے دعوی کیا کہ وہ چارج شیٹ نہیں پڑھ سکتے کیونکہ کمپیوٹر پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی بیٹھا رہتا تھا۔ حسین نے اسے پین ڈرائیو پر مہیا کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ لائبریری میں جاکر اسے وہاں پڑھ سکیں۔ چارج شیٹ کو پڑھنے کے لئے ملزمین کو زیادہ وقت نہ ملنے کے الزامات کے بعد عدالت نے اس حقیقت پر ناراضگی ظاہر کی۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد نے بتایا کہ انھیں چارج شیٹ پڑھنے کے لئے دن میں تین گھنٹے دئے گئے تھے، جبکہ اسی دن انہیں صرف ایک گھنٹہ دیا گیا تھا۔ جے این یو کے طالب علم شرجیل امام نے دعوی کیا کہ انھیں چارج شیٹ پڑھنے کے لئے صرف دو گھنٹے دئے گئے۔ سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ انہیں ایک گھنٹہ دیا گیا، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا نے بتایا کہ انھیں چارج شیٹ پڑھنے کے لئے صرف ڈیڑھ گھنٹے کی مہلت دی گئی ۔ جب جج نے تہاڑ جیل انتظامیہ کی طرف سے ملزم کی طرف سے اظہار تشویش پر سوال کیا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکے۔ ملزمین نے کہا تھا کہ انہیں اپنے وکلاء سے آدھے گھنٹے کی میٹنگ کے دوران اتنی بڑی چارج شیٹ پر گفتگو کرنا مشکل معلوم ہوتاہے۔ اس کے بعد عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جیل میں چارج شیٹ کی ایک کاپی کمپیوٹر پر اپ لوڈ کریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close