اہم خبریں

’لوجہاد‘ قانون سیکولرازم اور رآزداری کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی :ڈاکٹر فیضان مصطفی

نئی دہلی، 3 جنوری (آئی این ایس انڈیا) ملک کی تین ریاستوں، اترپردیش، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش نے تبدیل مذہب کے خلاف قانون نافذ کردیا ہے، معاشرے کے مختلف طبقات اور سیاسی جماعتوں کی مختلف رائے ہے۔ ملک کی تین ریاستوں نے تبدیلی مذہب کے خلاف قانون نافذ کیا ہے، جس پر مختلف طبقات کی رائے مختلف ہے۔ آپ کے خیال میں یہ آئینی طور پر کتنا عملی ہے؟کے جواب میں معروف قانون ماہرڈاکٹر فیضان مصطفی نے کہاکہ قانون سیکولرازم کے بنیادی تصور کے خلاف ہے جسے آئین کا بنیادی ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہر فرد کے اپنے مذہب اور اپنی شریک حیات کا انتخاب کرنے کے حق کے بھی منافی ہے۔ اس سے نہ صرف ذاتی طور پر ذاتی فیصلے کرنے کی ذاتی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ فرد کی عزت بھی مجروح ہوتی ہے۔ یہ قانون رازداری کے حقوق کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ہندو مت سے متعلق قانون، جو ہماری ثقافتی روایت کا ایک حصہ رہا ہے، اسے بھی ختم کرتا ہے، ہمارے یہاں دلہن کو اپنے شوہر کا انتخاب کرنے کی آزادی تھی۔ اب ہم کہہ رہے ہیں کہ کوئی انہیں بیوقوف بنا سکتا ہے، وہ اپنے فیصلے نہیں لے سکتے۔ میرے خیال میں یہ کسی بھی’لوجہاد‘ یا کسی بھی برادری کو نشانہ بنانے کی بات نہیں ہے، یہ ہندو خواتین کے وقار، آزادی وغیرہ کے خلاف قانون ہے اور انہیں اس کی سب سے زیادہ مخالفت کرنی چاہئے۔ مسلم علماء ہندوؤں کے ایک طبقے کی طرح دوسرے مذاہب میں شادی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔نئے قانون میں تبدیلی مذہب کے حوالے سے تعزیرات ہند کی دفعات ہی خود یہ واضح کردیتی ہیں کہ وہ متعلقہ ریاستوں کی من مانی سہولیات سے وابستہ ہیں۔ یہ تعزیرات ہند کی دفعات کی روح کے منافی ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close