اہم خبریں

ملک کی سرکردہ شخصیات کے ہاتھوں شمس تبریز قاسمی مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے سرفراز

ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ہونے پر خصوصی استقبالیہ ۔ علماء ودانشوران نے پیش کی مبارکباد

نئی دہلی 3جنوری(آئی این ایس انڈیا) معروف آن لائن سہ لسانی اخبار ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ہونے پر ڈاکٹر سید فاروق صاحب کے تعاون سے ورلڈ پیس آرگنائزیشن اور الہند تعلیم جدید فائونڈیشن کے زیر اہتمام ایک استقبالیہ تقریب کا ا نعقادکیاگیاجس میں ملک کی متعدد سرکردہ شخصیات ، دانشوران اور علماء نے شرکت کی اور ملت ٹائمز کی پانچ سالہ نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرروت قرار دیا ۔ اس موقع پر موجود شخصیات کے ہاتھوں ملت ٹائمز کے بانی اور سی ای او شمس تبریزقاسمی کو صحافت کے میدان میں تاریخی کارنامہ انجام دینے پر مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ سے بھی نواز اگیا ۔ علاوہ ازیں امروہہ سے لوک سبھا ایم پی کنور دانش علی اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ذاکر خان کو بھی مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ایوارڈ دیاگیا ۔نیز ضحی انجم ، ادیبہ علی اور صدف شمیم کو بھی اسکول اور نیٹ میںنمایاں حاصل کرنے پر مومینٹو پیش کیاگیا ۔ اس موقع پروفیسر اختر الواسع وائس چانسلرمولانا آزاد یونیورسیٹی جودھپور نے کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے کہاکہ لوگ مدارس پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں لیکن شمس تبریز قاسمی نے ثابت کردیاکہ مدرسہ والے کسی سے کم نہیں ہیں بس انہیں موقع ملنا چاہیئے ۔ جبکہ ڈاکٹر سید فاروق صاحب نے صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے ملت ٹائمز کو ملک وقوم کو بنیادی اثاثہ قرار دیا اور کہاکہ شمس تبریز قاسمی جیسے نوجوانوں کو حوصلہ دینا اور ان کا استقبال کرنا ہمارا فرض ہے کیوں کہ یہ وہ کارنامہ انجام دے رہے ہیں جس کے اہم اور ضروری ہونے کے باوجوداس پر توجہ نہیں دی گئی ۔سینئر صحافی اے یو آصف نے کہاکہ میں ملت ٹائمز کو شروع سے جانتاہے ،مکمل گہرائی کے ساتھ جانتاہوں ، کم وقت میں بغیر سرمایہ کے یہ جو کام کررہے ہیں اس کی کہیں بھی کوئی مثال نہیں مل سکتی ہے ۔ ملت ٹائمز کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج نہیں بلکہ اس کے ساتھ اردو ، انگریزی اور ہندی تین زبانوں میں آن لائن اخبار بھی ہے اور یہ امتیاز صرف ملت ٹائمز کو حاصل ہے۔پریس کلب آف انڈیا کے صدر جناب آنند کے سہائے نے کہاکہ ملت ٹائمز کی خبریں اور پروگرام دیکھنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ شمس تبریز قاسمی نے صرف پانچ سالوں میں وہ مقام حاصل کرلیاہے جو لوگ پوری زندگی ایڑی رگڑنے کے باوجود حاصل نہیں کرپاتے ہیں ۔بی ایس پی لیڈر اور امروہہ لوک سبھا سے ایم پی کنور دانش علی نے کہاکہ اس وقت ملک کے جوحالات ہیں اور جس طرح کارپوریٹ گھرانے حکومت کی ترجمانی کررہے ہیں ایسے وقت میں ملت ٹائمز جیسے میڈیا ہائوسز کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ سیاست دانوں ، ایم پی اور ایم ایل اسے کہیں زیادہ ملک اور قوم کیلئے شمس تبریز قاسمی جیسے لوگ کام کررہے ہیں ۔ ان کی خدمات کو سلام کرتے ہیں اور ملت کو چاہیئے وہ ملت ٹائمز کا اعتراف کرے ،اس کو سپورٹ کرے ۔کانگریس اقلیتی امور کے چیرمین ندیم جاوید نے کہاکہ شمس تبریز قاسمی میں مولانا ابوالکلام آزاد کی خصوصیات کا ایک حصہ پایا جاتاہے کیوں کہ وہ بھی مولانا ہونے کے ساتھ صحافی تھے اور آپ بھی ہیں ۔ انہوں نے کہ ایک کام ہے کسی ادارے سے وابستہ ہوکر صحافت کرنا لیکن اس سے کئی گناز یادہ اہم کا ہے کوئی میڈیا ہائوس قائم کرنا۔ شمس تبریز قاسمی اس لئے بھی قابل مبارکباد ہیں کہ ان کی سو سے زیادہ اسٹوریز حکومت اور انتظامیہ پر موثر ہوئی ہے ۔ سید صفی احمد نقوی سیکریٹری سینٹرل وقف کونسل نے پانچ سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ مجھے فخر محسوس ہورہاہے کہ ملت ٹائمز نے اتنے کم وقت میں یہ اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہاکہ گذشتہ تین چارسالوں میں ہماری ملت میں ایک بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ نوحہ خوانی کے بجائے تہنیت اور مبارکباد ی کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ شمس تبریز قاسمی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ترجمہ نگاری اور کاپی پیسٹ والی صحافت کے بجائے تحقیقی اور انویسٹیگیٹنگ جرنلزم کو اپنایا ہے اور اسی نے ان کو یہ مقام عطا کیاہے ۔عاطف رشید وائس چیرمین نیشنل مائناریٹی کمیشن نے ملت ٹائمز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہ شمس تبریز قاسمی نے صاحب محض پانچ سالوں میں جو اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے اس کی بنیادی میرے خیال میں یہ ہے کہ وہ حافظ قرآن ہیںاور اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ایک حافظ قرآن ہی اس طرح کی تاریخ رقم کرسکتاہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر ڈاکٹر نجمہ اختر اچانک کسی اہم مصروفیت کی وجہ شریک نہیں ہوسکی تاہم انہوں نے اپنا ایک مسیج بھیج کر نیک خواہشات کا اظہار کیا کہ ملت ٹائمز کے پانچ سال مکمل ہونے پر پوری ٹیم کو میری جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد ۔جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری انجینئر سلیم نے کہاکہ بلاشبہ ملت ٹائمز نے پانچ سال میں جو کیاہے اس کی مثال نہیں مل سکتی ہے ۔ سیاسی ،سماجی اور دیگر طرح کی خبروں کے ساتھ ملی ایشوز پر ان کی گہری نظر تھی اور ملت کے ہر اہم مسئلے کو انہوں نے خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ۔دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ذاکر خان منصوری نے کہاکہ ملت ٹائمز نے پانچ سالوں کے دوران مین اسٹریم کے ویب پورٹل اور یوٹیوب چینل میں اپنی جگہ بنالی ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شمس تبریز قاسمی ایک مدرسہ کے فارغ ہونے کے باوجود تمام حلقوں میں ،تمام مذاہب اور اہل وطن کے درمیان یکساں مقبول ہے ۔مولانا اعجاز الرحمن شاہین قاسمی جنرل سکریٹری ورلڈ پیس آرگنائزیشن نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملت ٹائمز آن لائن اخبارات کی دنیا میں ایک ممتاز ،منفرد اور قابل فخر میڈیا ہائوس ہے ۔ اس کی خدمات کو سراہنے اور شمس تبریز قاسمی کے حوصلہ کو بڑھانے کیلئے آج کی یہ تقریب منعقد کی گئی ہے۔علاوہ ازیں کلیم الحفیظ مالک ہوٹل ریورو ، قمر الحسن مرزا بیگ چیئرمین جامعہ کو آپریٹیو بینک ، قاری محمود الحسن مہتمم مدرسہ تجوید القرآن آزاد مارکیٹ ۔سراج الدین قریشی صدر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نے بھی اپنے نمائندہ کو بھیج کر نیک خواہشات کااظہار کیااور ملت ٹائمز کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ۔ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کے نمائندہ مولانا شیش تیمی، ایکٹویسٹ صائمہ خان ، مفتی احمد نادر القاسمی ۔ کمیونسٹ رہنما امیر حیدر زیدی ۔جناب عتیق ساجد اور دیگر شخصیات نے بھی ملت ٹائمز کو مبارکبادپیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔قبل ازیں ڈاکٹر خبیب احمد کی تلاوت سے تقریب کا آغاز ہوا ۔مفتی افروز عالم قاسمی نے بحسن وخوبی نظامت کی اور خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close