ہندوستان اردو ٹائمز

فیصلہ کن لڑائی کیلئے دہلی آئے ہیں، زرعی قوانین کے خلاف احتجاج جاری رہے گا

نئی دہلی،30نومبر(آئی این ایس انڈیا) پیر کے روز مرکز کے ذریعہ لائے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کاشتکاروں نے کہا ہے کہ وہ فیصلہ کن لڑائی کے لئے قومی دارالحکومت میں آئے ہیں اور جب تک کہ ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے ہیں، ان کامظاہرہ تب تک جاری رہے گی۔ مظاہرین کاشتکاروں کے نمائندے نے سنگھو بارڈر پر پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی ان کے’من کی بات‘ سنیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ کسانوں کے نمائندے نے دعوی کیا کہ اگر حکمراں جماعت نے ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا تو اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہاں ایک فیصلہ کن جنگ کے لئے آئے ہیں۔ ایک اور کسان لیڈر گورم سنگھ چڑھونی نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف تحریک کودبانے کے الزام میں اب تک 31 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ چڑھونی نے کہا کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوجاتے، کسانوں کااحتجاج جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کسان ایسوسی ایشنوں سے براری میدان پہنچنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ مرکزی وزراء کی ایک اعلی سطحی ٹیم وہاں پہنچتے ہی ان سے بات کرے گی۔ اتوار کے روز 30 سے زائد کسان تنظیموں کی اتوارکوہوئی میٹنگ میںکسانوں کے براڑی میدان پہنچنے پر 3 دسمبر کی طے تاریخ سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پیش کش پر بات چیت کی گئی،لیکن ہزاروں مظاہرین نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کردیا دیا اور موسم سرما میں ایک اور رات سنگھو اور ٹکری سرحدوں پرڈٹے رہنے کی بات کی۔ ان کے نمائندوں نے کہا کہ انہوں نے شاہ کی یہ شرط قبول نہیں کی کہ وہ پنڈال تبدیل کرلیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ براڑی میدان ایک ’کھلی جیل‘ ہے۔