اہم خبریں

محبت ذاتی معاملہ،لوجہادکاشوشہ انتخابی ایجنڈہ:نصرت جہاں

کولکاتہ 25نومبر(آئی این ایس انڈیا)اترپردیش حکومت کے ذریعہ تبدیلی مذہب سے متعلق آرڈیننس کے بارے میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور مغربی بنگال میں اداکارہ نصرت جہاں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات انتخابات سے قبل ہی اٹھائے جاتے ہیں۔نصرت جہاں نے مبینہ لوجہادکے بارے میں کہاہے کہ محبت ایک ذاتی معاملہ ہے ، جوشادی کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے۔ کیا کھاتاہے،کیا پہنتا ہے ، یہ سب مکمل طور پر ذاتی معاملہ ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے کہاہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ، یہاں خود مختاری ہے۔ لوجہادایک ایسی اصطلاح ہے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کسی خاص برادری کے خلاف ایجنڈے کے طور پر تشکیل دیا ہے۔ نصرت جہاں نے کہاہے کہ محبت اورجہاد ایک ساتھ نہیں ، یہ معاملہ چلنے والا نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر الیکشن سے پہلے اٹھائے گئے مسائل ہیں۔نصرت جہاں نے کہا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ سیاستدانوں کی طرح ہمیں بھی لوگوں کی ترقی ، اپنی ذات ، نسل ، مذہب سے بالاتر ہوکر کام کرنا چاہیے اگر کوئی غیر قانونی اور مجرمانہ فعل پایا جاتا ہے توقانون اپنا کام کرے گا۔ مجھے عدالتی نظام پر مکمل اعتمادہے۔ شہری آزادیوں کوروکنے کے لیے لائے گئے ایسے قوانین پرعدالت پہلے ہی اپنی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔نصرت نے کہا کہ محبت ذاتی معاملہ ہے اور ایسی صورتحال میں اس کے ساتھ جہاد نہیں کیا جاسکتا۔ ہم کبھی بھی کسی کو مذہب ، ذات پات کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے ، لوگوں کو ایسے معاملات سے گریز کرنا چاہئے اور مذہب کو کسی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے جبکہ نصرت پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اس طرح کے معاملات کو اٹھا کر لوگوں کی ذاتی مرضی پر حملہ نہیں کیا جاسکتا ، بھارت میں کوئی بھی اس طرح سے حکم نہیں دے سکتا۔در حقیقت ، اتر پردیش حکومت نے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں ایک آرڈیننس پاس کیا ہے۔ اس میں لوجہاد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ، لیکن دفعات ایسی ہیں کہ اگر کوئی مذہب چھپاتا ہے یا کسی لڑکی کا زبردستی مذہب بدلواتاہے تواس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close