اہم خبریں

ترمیم شدہ کیرلا پولیس ایکٹ118A فسطائی اور جمہوریت مخالف۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے ترمیم کیرلا پولیس ایکٹ 118.A پر جاری بیان میں اسے فسطائی اور جمہوریت مخالف قراردیا۔ کیرلا، بائیں بازو کے ڈیموکریٹک فرنٹ کے زیر اقتدار ایک ریاست ہے۔ جس کی سربراہی خود ساختہ فسطائیت مخالف سی پی ایم کررہی ہے۔ جن کا دعوی ہے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی اور شہری حقوق کیلئے کھڑے ہیں۔ کیرلا پولیس ایکٹ سیکشن118Aمیں ترمیم پر گورنر نے دستخط کیا ہے جس سے سی پی ایم کی اظہار رائے کی آزادی اور شہری حقوق سے متعلق پارٹی کے موقف کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ ترمیم سوشیل میڈیا کے ذریعہ کسی بھی شخص کو ڈرانے، توہین کرنے یا بدنام کرنے کے ارادے سے کسی بھی طرح کے مواصلات کے ذریعے مواد تیار کرنے، شائع یا پھیلانے کیلئے پانچ سال قید یا 10ہزار روپئے یا دونوں جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس سے پولیس کو بلاشبہ اس کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے دروازے کھول دے گا۔ نئے ترمیم کے مطابق کسی بھی اظہار کی ترجمانی کو پولیس دھمکی آمیز، توہین آمیز یا بدنام کرنے کے طور پر لے سکتی ہے۔ وزیر اعلی کا یہ بیان کہ ترمیم کو آزادانہ تقریر یا غیر جانبدار صحافت کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا موجودہ صورتحال پر اس بیان پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ آج کل ایسا لگ رہا ہے کہ پولیس فورس وزرات داخلہ کے ماتحت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 66اے اور کیرلا پولیس ایکٹ کی دفعہ 118dجیسی ایسی ترامیم کو اس بنیاد پر منسوخ کردیا تھا کہ یہ اظہار رائے کے آزادی کے خلاف ہیں۔ اس ترمیم کا مقصد یقینا حکومت کے خلاف تنقیدوں کو ختم کرنا اور آزادی صحافت کو روکنا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سی پی ایم کے زیر قیادت حکومت اجئے بشت کی یوپی حکومت سے حوصلہ افزائی حاصل کرکے حکومت اور حکمران پارٹی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کیلئے سخت قانون سازی کرکے غیر اخلاقی طور پر جمہوری نظام اور سیاسی اخلاقیات کو پامال کرنے کے عمل میں ہے۔جب بھی کوئی سخت قانون کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو سی پی ایم اس کا خیر مقدم اوراس کی حمایت کرتی ہے اور جب یہی قانون اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے تو وہ اس قوانین کی مخالفت اور احتجاج کرتی ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ہر طرح کے سخت قوانین کے خلاف ہے جو شہری کی آزادی کو روکتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی دیگر تمام بائیں بازو کی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں سے اس سخت قانون کی مخالفت کرنے کی اپیل کرتی ہے اور کیرلا کی ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس ترمیم کو کالعدم قرار دیں اور عوام سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کریں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close