اہم خبریں

سابق جج کی سکیورٹی بڑھانے سے سپریم کورٹ کا انکار: بابری کیس میں بی جے پی قائدین اور دیگر پر دیا تھا فیصلہ

نئی دہلی،02 ؍نومبر( آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے بابری انہدام کیس میں فیصلہ سنانے والے جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ سکیورٹی جاری رکھنے کے لئے جج ایس کے یادو نے خود ہی عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا، حالانکہ سپریم کورٹ نے انکار کردیا۔جج ایس کے یادو نے بابری انہدام کیس میں بی جے پی قائدین سمیت تمام ملزمین کو بری کرنے کا فیصلہ دیا۔ اس معاملے میں ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت بہت سارے بڑے رہنما ملزم تھے۔ عدالت نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مسلسل سکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی۔ لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو نے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جج یادو نے اپنے آخری معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنی ذاتی سیکورٹی جاری رکھنے کو کہا ہے۔اس سے قبل مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے سپریم کورٹ سے سکیورٹی فراہم کرنے کو کہا تھا، جسے عدالت نے قبول کی اتھا ۔ عدالت نے یوپی حکومت کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم فیصلہ آنے اور ریٹائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے جج کو تحفظ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ اہم بات یہ ہے کہ بابری انہدام کیس میں یہ فیصلہ اس واقعے کے تقریبا 28 سال بعد 30 ستمبر 2020 کو آیا تھا۔بابری مسجد انہدام کیس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی جج ایس کے یادو کو گذشتہ سال 30 ستمبر کو ریٹائر ہونا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے ان کی مدت میں توسیع کردی تھی۔ اپریل 2017 میں سپریم کورٹ نے دو سال میں کیس نمٹا دیا اور فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اس کی مدت میں تین بار توسیع کی گئی اور آخری تاریخ 30 ستمبر 2020 رکھی گئی۔ اس واقعہ کی پہلی ایف آئی آر نمبر 197 اسی دن 6 دسمبر 1992 کو شری رام جنم بھومی صدر فیض آباد تھانہ پولیس اسٹیشن پرینبدا ناتھ شکلا نے درج کی تھی۔ دوسرا ایف آئی آر نمبر 198 گنگا پرساد تیواری کی تھی ، جو رام جنم بھومی پولیس چوکی کے انچارج تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close