اہم خبریں

کرونا بحران پر حکومت کے اعداد و شمار جھوٹے ہیں، ملک میں 52 لاکھ افراد کی جان اس وبا کی نذر ہوگئی : ملکارجن کھڑگے

نئی دہلی، 20جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) ایوان کے مانسون اجلاس کا دوسرا دن بھی ہنگامہ خیز رہا ، کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی حزب اختلاف کے ارکان نے جاسوسی معاملہ پر جم کر نعرے بازی کرنے لگے ۔ دریں اثنا، راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے کورونا کے معاملہ پر بحث کرائے جانے پر رضا مندی ظاہر کرنے کے بعد دوپہر کو ایک بجے ایوان کی کارووائی شروع ہونے پر کچھ ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی۔ہنگامہ کے دوران ہی راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف نے ملکارجن کھڑگے نے کورونا واریئر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کہا کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں ہماہمی کا عالم تھا اور خصوصی طور پر دریائے گنگا کی صورت حال انتہائی قابل رحم نظر آئی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے ہونے والی اموات پر حکومت کے اعدادوشمار جھوٹے ہیں کیونکہ ہندوستان میں 6 لاکھ سے زیادہ گاؤں ہیں اور اگر ایک گاؤں میں 5 افراد بھی فوت ہوئے ہیں تو اموات کی تعداد 30 لاکھ ہو جاتی ہے، تاہم اس میں اگر شہروں میں ہونے والی اموات بھی جوڑ دی جائیں تو ان افراد کی تعداد 52 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے، جنہوں نے کورونا کے سبب دم توڑ دیا۔ حکومت غلط ڈیٹا جاری کر رہی ہے اس لئے انہیں بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ملکارجن کھڑگے نے اس دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کورونا سے جو لوگ مر رہے ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت وبا سے متعلق انتظام میں پوری طرح ناکام رہی، کیونکہ اسپتالوں میں آکسیجن اور بیڈ دستیاب نہیں تھے۔کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے انتخابی مہم جوئی کے دوران مغربی بنگال میں وسیع ترین ریلیاں کرنے کے معاملہ میں بھی حکومت اور بی جے پی پر حملہ بولا۔ خیال رہے کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں عوام کا برا حال ہو گیا تھا اور لوگوں کو ادویات، آکسیجن اور اسپتالوں میں بیڈ میسر نہیں ہو پا رہے تھے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 374 نئی اموات کے بعد ملک مجموعی تعداد 4 لاکھ 14 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے، جوکہ 52 لاکھ سے کافی کم ہے جیسا کہ کھڑگے نے دعویٰ کیا ہے۔ نئے کیسز کے بعد معاملہ کی مجموعی تعداد تعداد 3 کروڑ 11 لاکھ 74 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ تاحال ملک میں 4 لاکھ 6 ہزار 130 معاملے ہی فعال رہ گئے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close