اہم خبریں

طلبہ کارکنوں کی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی درخواست پر سپریم کورٹ نے کہا پورا ملک ہوگامتاثر

نئی دہلی ،18؍ جون (ہندوستان اردو ٹائمز)دہلی تشدد کیس میں طلبہ کارکنوں کی ضمانت کے خلاف دہلی پولیس کی درخواست پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ دہلی تشدد کیس میں طالب علم کارکن نتاشا ناروال ، دیونگانہ کالیتا اور آصف اقبال کو جمعرات کی رات ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ وہ دہلی میں شہریت قانون کے خلاف فسادات سے متعلق گزشتہ ایک سال سے جیل میں تھے۔عدالت نے کہاکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑ سکتا ہے ، ہم اس معاملے میں نوٹس جاری کرنا چاہیںگے۔ اس کے ساتھ ہی تینوں کارکن دیوانگانہ ، آصف ، نتاشا ناروال کی ضمانت برقرار رکھی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے ضمانت دینے سے متعلق فیصلے پر روکنے سے انکار کردیا ، تاہم سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تینوں کارکنوں کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔دہلی پولیس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ حکم پر روک لگنی چاہئے ، اس حکم سے ایسا لگتا ہے کہ تینوں کو کلین چٹ مل گئی ہے۔

دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے ، اس میںکئی پولیس اہلکار شامل تھے اور 700 افراد زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ فسادات پر قابو پالیا گیا ہے ، لہٰذا یو اے پی اے نافذنہیں ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کے سنگین جرم کو کمزور سمجھا جاسکتا ہے؟ حکم پر روک لگائی جانی چاہئے۔دہلی پولیس نے کہا کہ تینوں ملزموں کو جیل سے باہر رکھا جانا جائے لیکن حکم پر روک لگائی جائے ۔ ہائی کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ دہلی فسادات پر یو اے پی اے کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق ہائی کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے کو ملک کے دفاع سے متعلق معاملات میں استعمال کیا جانا چاہئے ، نہ ہی اس سے کم اور نہ ہی زیادہ یعنی اگر ہم اس معاملے میں یو اے پی اے لگاتے ہیں تو وہ غیر آئینی ہو گیا ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو مثال کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ہم تینوں کی ضمانت منسوخ نہیں کررہے ہیں ، تینوں ملزم جیل سے باہر رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم دہلی ہائی کورٹ کے یو اے پی اے کے بارے میں دیئے گئے فیصلے کی جانچ کریں گے۔ تینوں ملزمان کو نوٹس دیا گیاہے ، اس معاملے کی سماعت 19 جولائی کو ہوگی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close