اہم خبریں

حکومت کے ظالمانہ رویے سے اردو اکیڈمی دہلی کا صرف نام باقی رہ گیا ہے:کلیم الحفیظ

گزشتہ دوسال سے نہیں ملا بجٹ،27آسامیاں خالی،163مسودے منظوری کے بعد منظر عام پر آنے کے منتظر

نئی دہلی14جون(ہندوستان اردو ٹائمز) دہلی اردو کا گہوارہ ہے ،اردو کے دبستان میں دہلی کا نمایاں نام ہے،آزاد ہندوستان میں اردو کی ترویج و بقا کے لیے ریاستوں میں اردواکیڈمیز قائم کی گئیں تھیں ،مگر حکمرانوں کے تعصب نے ان کا صرف بورڈ باقی چھوڑا ہے،دہلی اردو اکیڈمی کی صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے،گزشتہ دوسال سے طے شدہ بجٹ کے دس کروڑ روپے کورونا کے نام پر ہڑپ لیے گئے ہیں، فی الحال27آسامیاں خالی ہیں،163مسودے منظوری کے بعد منظر عام پر آنے کے منتظرہیں۔جب کہ سندھی،ہندی اور پنجابی اکیڈمیاں خوب پھل پھول رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحادالمسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے پریس کانفرنس میں کیا۔

صدر مجلس نے کہا کہ دہلی حکومت کا رویہ اردو کے تئیں ظالمانہ ہے۔سب سے بڑا ظلم تو یہی ہے کہ اردو اکیڈمی کا وائس چیرمین ایک ایسے شخص کو بنادیا گیا ہے جو اردو سے واقف ہی نہیں ہے اس کی خوبی صرف یہی ہے کہ وہ حکومت کے بیربل میں شمار ہوتا ہے۔سرکار نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تا کہ اردو اکیڈمی دہلی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی جائے۔کلیم الحفیظ نے کیجریوال سے معلوم کیا کہ اردو اکیڈمی کا بجٹ دس کروڑ ہے جو طے شدہ ہے اس کے باوجود گزشتہ دوسال سے اردو اکیڈمی کو رقم ریلیز کیوں نہیں کی گئی؟انھوں نے پوچھا کہ اکیڈمی کی 27اہم پوسٹیں جن میں لائبریرین اور اردو ماہناموں کے ایڈیٹران بھی شامل ہیں وہ کیوں پُر نہیں کی گئیں ؟کیوں پروف ریڈر سے ایڈیٹر کے فرائض ادا کرائے جارہے ہیں؟اس صورت حال میں کیا اردو رسائل کا معیار باقی رہ سکتا ہے؟کلیم الحفیظ نے سوال کیا کہ آخر 163مسودے جن پر ماہرین کی رائے بھی لے لی گئی ہے۔وہ کئی سال سے کیوں دیمک کھارہے ہیں؟ ان کی طباعت میں آخر کیا دشواری ہے؟جب کئی سال پہلے کے مسودے دھول چاٹ رہے ہیں تو نئے مسودوں کی باری کب آئے گی ؟اس کے علاوہ دوسال سے نہ کتابوں پر انعامات دیے گئے اور نہ دیگر ادبی انعامات کا کچھ پتا ہے ؟،اردوگیسٹ ٹیچر بھی اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں ،اردو کے نام پر ہونے والے پروگرام بھی ندارد ہیں حالانکہ وہ آن لائن ہوسکتے تھے ۔اردو ادب کے سینئر شہریوں کو ملنے والا ماہانہ اعزایہ صرف 25-30لوگوں تک ہی کیوں خاص ہے ،یہ اسکیم دہلی کے سینکڑوں افارد تک کیوں نہیں پہنچائی گئی ؟کو کیا سرکار کا یہی رویہ دوسری زبانوں کی اکیڈمیوں کے ساتھ بھی ہے؟اسی طرح اردو شاعروں اور اردو ادیبوں کی جانب سے بھی سرکار لاپرواہ ہے ،وہ مزدوروں اور آٹو ڈرائیوروں کو تو 5000ہزار روپے دے سکتی ہے لیکن تہذیب کے محافظوں کوجن کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدنی نہیں ہے مرنے اور سسکنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔

کلیم الحفیظ نے کہا کہ اردو اکیڈمی کی اس بدترین صورت حال کی ذمہ داری سرکار کے ساتھ ساتھ وائس چیرمین پر بھی عائد ہوتی ہے ،وائس چیرمین کاکام سرکار کی چاپلوسی کرنا نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کما حقہٗ ادا کرنا ہے۔اگر وہ یہ ذمہ ادا نہیں کریں گے تو عوام اور خدا دونوں جگہ پکڑے جائیں گے جہاں کوئی کیجریوال نہیں بچا پائے گا۔صدر مجلس نے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ بلا تاخیر دونوں سال کی رقم ریلیز کی جائے،تمام منظور شدہ مسودات کی طباعت کا عمل شروع کیا جائے،ادبی انعامات جاری کیے جائیں،خالی آسامیاں دو ماہ کے اندر پر کی جائیں،ادباء اور شعراء کے لیے ماہانہ وظائف مقرر کیے جائیں۔اگر آف لائن نہیں ہوسکتے تو آن لائن پروگرام کرائے جائیں،نئے پرانے چراغ میں شعراء کی تعداد بڑھائی جائے اور ان کو ملنے والا اعزازیہ کم از کم پانچ ہزار روپے کیا جائے۔کلیم الحفیظ نے تمام اردو دوستوں سے بھی گزارش کی کہ وہ اردو کے جائز حق کے لیے منظم جد و جہد کریں،مجلس ہر قدم پر ان کے ساتھ ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close