اہم خبریں

پاپولر فرنٹ نے شہریت درخواست (سی اے اے ) پرپی آئی ایل داخل کی

نئی دہلی9جون(ہندوستان اردو ٹائمز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کی جانب سے جاری کردہ اُس متنازعہ اعلان کی آئینی درستگی کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے، جس میں پڑوسی ممالک سے آئے غیرمسلم پناہ گزینوں سے شہریت کے لئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ابھی شہریت ترمیمی قانون، ۲۰۱۹ کے قواعد بھی وضع نہیں ہوئے ہیں، اور وزارت داخلہ کے ۲۸؍مئی کے ایک گزٹ نوٹیفکیشن میں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، سکھ، جین، عیسائی اور بدھشٹ مہاجروں سے شہریت کی درخواستیں طلب کی جانے لگی ہیں جو فی الوقت گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور پنجاب کے ۱۳؍اضلاع میں رہائش پذیر ہیں۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ایم ایچ اے کا نوٹیفکیشن چور دروازے سے سی اے اے نافذ کرنے کی ایک کوشش ہے۔

انیس احمد کے ذریعہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ پی آئی ایل میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو غیرآئینی، تفریقی اور آئین ہند کی دفعہ ۱۴ کے حساب سے غیرقانونی قرار دیا جائے، کیونکہ یہ شہریت قانون، ۱۹۵۵ کی دفعہ ۵ اور ۶ کے تحت رجسٹریشن کراکے شہریت حاصل کرنے سے مسلمانوں کو روکتا ہے۔ پی آئی ایل میں متنازعہ گزٹ نوٹیفکیشن کی درستگی کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی گئی ہے، کیونکہ اسے شہریت قانون، ۱۹۵۵ کی دفعہ ۵ اور ۶ کے خلاف جاری کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عرضی میں مرکزی حکومت کو شہریت قانون، ۱۹۵۵ کی دفعہ ۱۶ کے بہانے’ اقتدار کے پرفریب استعمال‘ سے روکنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close