اہم خبریں

سنٹرل وسٹاپروجیکٹ ضروری کام نہیں،پھرکیوں مزدوروں کوخطرے میں ڈالاجارہاہے، تعمیرات کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر

تعمیرات کے خلاف ہائی کورٹ میں دائردرخواست پرجلد سماعت کی درخواست

نئی دہلی 10مئی(ہہندوستان اردو ٹائمز) پوراملک کوروناکی زدمیں ہے۔عوام کی بھلائی ،آکسیجن کے لیے پیسے کی کمی ہے۔دوسرے ممالک مددکررہے ہیں لیکن 2000کروڑسنٹرل وسٹاپروجیکٹ پرخرچ کیاجارہاہے۔یہی نہیں ،سرکاراپیل کرتی ہے کہ صرف ضروری کاموں سے گھرسے باہرنکلیں جب کہ یہی سرکارمزدوروں کوگاڑی سے وہاں لے جارہی ہے۔سوال یہی ہے کہ یہ کون ساضروری کام ہے۔اس معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سے عالمی وبا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان تعمیر کو روکنے کے لیے دائر مفادعامہ کی درخواست پرجلد سماعت کی درخواست کی گئی۔

سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جسسمیت سنگھ کی بنچ کے سامنے اس کا حوالہ دیا جس پرعدالت نے کہا ہے کہ اس سے پہلے درخواست دائر کی جانی چاہیے۔لوتھرا نے کہا کہ 7 مئی کو عدالت عظمی نے درخواست گزاروں سے کہا تھا کہ اگر وہ اس عرضی پر جلد سماعت چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے معاملہ ہائی کورٹ کے پاس بھیج دیا۔درخواست گزار انیا ملہوترا اور سہیل ہاشمی ہائی کورٹ کے 4 مئی کے اس حکم کے خلاف عدالت عظمیٰ پہنچے تھے جس میں عدالت نے پی آئی ایل کی سماعت کے لئے 13 مئی کی تاریخ مقرر کی تھی۔عدالت نے کہا ہے کہ وہ پہلے 5 جنوری کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا نوٹ لینا چاہتی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ عدالت نے اس منصوبے پر آگے بڑھنے کی منظوری دیتے ہوئے کیا کہا۔درخواست گزاروں نے عدالت میں دائردرخواست میں استدلال کیاہے کہ یہ منصوبہ ضروری سرگرمی نہیں ہے لہٰذااس وبا کو دیکھتے ہوئے اسے روک دیاجاسکتاہے۔لوتھرا نے بنچ کو بتایا کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس ملک کو ایک بے مثال انسانیت سوز بحران کاسامنا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ راج پتھ ، سنٹرل وسٹا توسیع اور پارک میں جاری تعمیراتی کام کو جاری رکھنے کی اجازت کو چیلنج کیاہے۔لوتھرانے کہاہے کہ مزدورں کو سرائے کالے خان اور قرول باغ علاقے سے راج پتھ اور سنٹرل وسٹا منتقل کیا جا رہا ہے ، جہاں تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس سے ان میں انفیکشن پھیلنے کا امکان بڑھ جاتاہے۔انہوں نے پیر کو بھی عدالت میں یہی مقدمہ جلد سماعت کرنے کی درخواست کی تھی۔ 11 مئی کو ہائی کورٹ میں جلد سماعت کے لیے درخواست کی سماعت ہونے کا امکان ہے۔لوتھرا نے کہاہے کہ جب ملک میں لاک ڈاؤن پر غور کیا جارہا ہے اور یہاں تک کہ انڈین پریمیر لیگ بھی ملتوی کردی گئی ہے توتعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔درخواست گزاروں نے دعویٰ کیاہے کہ اگر وبائی امراض کے دوران اس منصوبے کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو اس سے بہت زیادہ انفیکشن پھیل سکتا ہے۔انہوں نے ہائی کورٹ کے سامنے کہاہے کہ اس منصوبے کا تسلسل ، صحت سے متعلق نظام کی دیکھ بھال کرنے اور تعمیراتی مقام پرکام کرنے والے مزدوروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے پیش نظر تشویشناک ہے۔ایڈمنسٹریٹر گوتم خازنچی اور پردیو ممن کیستھا کے ذریعہ دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے میں راج پتھ اورانڈیاگیٹ سے راشٹرپتی بھون تک تعمیراتی سرگرمی کی تجویز کی گئی ہے۔اس منصوبے میں پارلیمنٹ کی ایک نئی عمارت ، ایک نیا رہائشی کمپلیکس ، جس میں مرکزی سیکرٹریٹ وزیر اعظم اور نائب صدر کے ساتھ ساتھ وزارت کے کئی نئے دفتر عمارتوں اور دفاتر کے لئے تعمیر کیا جائے گا کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close