اہم خبریں

مردم شماری اوراین پی آر پر تازہ ترین اپڈیٹ ، جانیں کیا ہے حکومت کا منصوبہ؟

نئی دہلی 10مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) کورونا نے حکومت کے متعددمنصوبوں کوناکام کیاہے ۔ اس کی وجہ سے مردم شماری اوراین پی آرکا کام بھی تعطل کا شکار ہوگیاہے۔ حکومت کا منصوبہ تھا کہ مکانات کی فہرست سازیء مئی میں مردم شماری کے تحت شروع کی جائے گی لیکن کورونا میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔اس عرصے کے دوران قومی آبادی کے رجسٹر (این پی آر) کو بھی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔8754 کروڑ مردم شماری پر خرچ کرنے ہونے ہیں۔جب کہ حکومت کے پاس پیسوں کی کمی ہے۔وہ پٹرولیم کی قیمت بڑھاکرخزانہ بھررہی ہے۔دوسرے ملکوں سے امدادلے رہی ہے لیکن سنٹرل وسٹاپروجیکٹ پر20ہزارکروڑاورمردم شماری پرآٹھ ہزارکروڑاوراین پی آرپرتین ہزارکروڑخرچ کررہی ہے۔

بتادیں کہ مردم شماری کے پہلے مرحلے کا آغاز 5 مئی سے ہونا تھا لیکن وبا کی وجہ سے 30 لاکھ ملازمین کی تربیت نہیں ہوسکی۔ اس عرصے کے دوران قومی آبادی کے رجسٹر (این پی آر) کو بھی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس پر3941کروڑ روپئے لاگت آئے گی۔پہلے مرحلے میں گھروں کی فہرست سازی اور مردم شماری اپریل سے ستمبر 2022 تک ہوگی۔ سال 2022 پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی۔ اس کے لیے موبائل ایپ اور ویب ایپلیکیشن تیار کی گئی ہیں۔ ایپ 16 زبانوں میں ہے۔ موبائل ایپلی کیشنزمیں نچلی سطح تک آبادی کے بلاکس کو جیو ٹیگنگ کا ایک نظام موجودہے۔

این پی آر ، مکان کی فہرست سازی اور دستی طور پر ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کابھی انتظام ہے۔ اس کے بعد آبادی کے 30 لاکھ کارکنان ان کی تصدیق کے لیے گھر گھر جاکر جائیں گے۔ مردم شماری سے یہ پتہ چل سکے گا کہ 2020 سے 2022 تک اس وبا نے ملک کو کس حد تک متاثرکیا۔ سرکاری ریکارڈ میں کتنی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ پیدائشی اموات کے اعداد و شمارپرمشتمل سول رجسٹریشن سسٹم کی رپورٹ صرف 2018 تک اپ ڈیٹ ہوگی۔جب کہ یہ ارادہ کوویڈسے پہلے کاہے۔اس سے قبل ڈیٹا کیپٹنگ سینٹر کا افتتاح مردم شماری کے رجسٹرار جنرل وویک جوشی نے 15 اپریل کو کیا تھا۔ اس سے ملک میں مردم شماری شروع ہونے کا اشارہ ہوتا ہے ، لیکن فی الحال یہ دفتر تقریباََ بند ہے۔ اب اس سال کے لیے کوئی روڈ میپ نہ ہونے کی وجہ سے مردم شماری 2022 سے شروع ہوگی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close