اہم خبریں

الیکشن میں حکومت کی مصروفیت کی وجہ سے بات چیت بند،تجارتی ادارے سرکارچلارہے ہیں:راکیش ٹکیت کاطنز،تحریک تیزکرنے کااعلان،دہلی میں 25000ٹریکٹرموجود،میڈیاکوخریدلیاگیا

نئی دہلی6اپریل(آئی این ایس انڈیا) زرعی قوانین کے خلاف پچھلے چارماہ سے کسانوں کی تحریک چل رہی ہے۔ اب راکیش ٹکیت پنچایت غازی پور بارڈرپرکسانوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غازی پور کی سرحد سے تقریباََ 60 کلومیٹر دور ، ہاپوڑ کے کسان ڈھول بجا کر جدوجہد کو تیز کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں پنچایت چلانے والے راکیش ٹکیت دسمبرکے بعد پہلی بارہاپوڑپہنچے جب کسانوں نے چھوٹی چھوٹی گاڑی پر بیٹھ کر ان کا استقبال کیا۔ اپنے خطاب میں بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ اب میڈیا بھی خریدا جارہا ہے۔ خبریں فلٹر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ ایف سی آئی کا گودام توڑنا ہے۔ آلو کی قیمت دو روپے ایک کلو ہے ، جبکہ جب اسے 40 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے تو اسے ایک گودام میں بند کردیا جاتاہے۔ جب سامان گوداموں میں بھر جائے گا ، تب یہ مہنگے بازار میں فروخت ہوگا ، صارف بھی مرجائے گا۔

انہوں نے کہاہے کہ دہلی میں 25 ہزار ٹریکٹر ہیں لیکن میڈیانہیں دکھاتا ہے۔ اگر کوئی خبر دکھاتا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہاہے کہ گجرات کے بعد اب اڈانی بھی یہاں آئیں گے ، کھیتی باڑی کریں گے۔ اب بیجوں کاقانون آئے گا۔ حکومت بتائے گی کہ کیابوناہے۔ آپ کو احتجاج کرنا ہوگا ، 2021 ایجی ٹیشن کا سال ہے۔ ضرورت پڑنے پر کسان غازی پور بارڈر پر آجائیں گے۔ ابھی حکومت انتخابات میں ہے ، دہلی میں کوئی نہیں ہے۔ حکومت میں بی جے پی والے نہیں ہیں ، کمپنیوں کی حکومت ہے ، اسی وجہ سے ہم حکومت سے بات نہیں کرسکے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close