اہم خبریں

کیا بقرعید میں کشمیری خود کو ’حلال‘ کریں گے- دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے پر اسدالدین اویسی کا تبصرہ

کیا بقرعید میں کشمیری خود کو ’حلال‘ کریں گے- دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے پراسد الدین اویسی کا تبصرہ 

نئی دہلی۔ ۶؍اگست: مرکزی حکومت کے جموں کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ ہٹانے کے فیصلے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و حیدرآباد سے ممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے تیکھا تبصرہ کیا ہے۔ فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اویسی نے پوچھا کہ عید پر کیا ہوگا؟ بکروں کے بجائے کیا کشمیری خود کو حلال کریں گے؟ لوک سبھا میں منگل کو جموں کشمیر پر بنائے گئے قانون پر گفتگو کے دوران انہوں نے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید پر کیا ہوگا۔ سوموار کو عید ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ عید پر بکروں کو حلال کرنے کے بجائے کشمیری خود کو حلال کرلیں۔ اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ میں اس بل کی مخالفت کرتا ہوں، یقینی طو رپر بی جے پی اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو نبھا رہی ہے لیکن وہ آئینی کسوٹی پر کھری نہیں اتر ی ہے۔ انہوں نے ایک وعدہ پورا کرنے کےلیے کشمیری عوام سے آئین میں دئیے گئے وعدے (آرٹیکل ۳۷۰ ) کو توڑ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وہ ہماچل میں ایگریکلچر لینڈ خرید سکتے ہیں ؟ ۔خیال رہے کہ دفعہ 118 کے تحت ہماچل میں زرعی اراضی نہیں خریدی جاسکتی ہے ۔ ہماچل پردیش کے باہر کے لوگوں کو یہاں زمین خریدنے کی اجازت نہیں ہے ۔ حالانکہ ہماچل میں کمرشیل مقاصد کیلئے زمین لیز پر دی جاتی ہے ، لیکن اس کیلئے شرطیں اور قوانین ہیں ۔ہماچل کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس لیڈر ویر بھدر سنگھ کے بیٹے اور موجودہ ممبر اسمبلی وکرما دتیہ سنگھ نے کشمیر کو لے کر مزکز کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ہماچل میں دفعہ 118 کو لے کر بھی لکھا ۔ وکرمادتیہ نے کہا کہ اب ہماچل میں لوگوں کو دفعہ 118 کو ہلکا کرنے کو لے کر بھی ڈر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو کانگریس اس کی جم کر مخالفت کرے گی اور یہ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی ۔سال 1972 میں ہماچل پردیش میں ایک خصوصی قانون بنایا گیا تھا ۔ ایسا اس لئے کیا گیا تاکہ دیگر ریاستوں کے امیر لوگ ریاست میں زمینیں نہ خرید سکیں ۔ دراصل 70 کی دہائی میں ہماچل کے عوام مالی طور پر کافی مضبوط نہیں تھے ، اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ لوگ اپنی زمینیں بیچ دیں گے اور پھر ہماچل کے اصل باشندے زمین سے محروم رہ جائیں گے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close