اہم خبریں

اورنگ آباد : شاہین باغ اورنگ آباد کمیٹی نے دہلی پہنچ کر چالیس سے زائد خاندانوں کی باز آبادکاری کو بنایا یقینی

دہلی کے مظلوم فساد متاثرین بھائیوں کے آنسو پونچھنے کی مقدور بھر کوشش

اورنگ آباد (ہندوستان اردو ٹائمز ) اورنگ آباد کے مخلص اشخاص، ہماری ماؤں بہنوں کی جانب سے جمع کئے گئے ریلیف فنڈ متاثرین تک پہنچانے کے لیے شاہین باغ اورنگ آباد کمیٹی کی جانب سے ایک وفد امداد کے لئے دہلی گیا تھا جہاں ذمہ داران نے حقیقی متاثرین تک امداد پہنچانے کا کام کیا اب حالات ٹھیک ہے لیکن کافی نقصان ہوا ہے جب آپ ان مقامات پر آپ جاتے ہے تو آپ کا ٹکراؤ کسی نا کسی متاثر سے ہوتی ہے جسکی کہانی انسانی جذبات کو جھنجھوڑ دیتی ہے لیکن زندگی کا تجربہ ہے دہلی ایسا مقام ہے جہاں ہر دو قدم پر ہر کسی کی انسانیت سوز کہانی ہے شرم آتی ہے کہ ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کانٹا جاتا ہوں دہلی کے چھوٹے سے حصے میں کئی واقعات ہے جو انسانیت کو شرمسار کرتی ہے

گزشتہ ماہ دہلی میں ہوئے منظم و منصوبہ بند فسادات کی تیاری کئی عرصے سے جاری تھی آفیشل رپورٹ گمراہ کن ہے جبکہ زمینی خبروں کے مطابق، 2600 سے زائد لوگوں کو دہلی فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں یا تو حراست میں لیا گیا ہے یا انہیں گرفتار کیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر مسلم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فسادات کے دوران مارے گئے 53 افراد کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری کی گئی ہیں، ان میں بھی اکثریت مسلمانوں ہی کی ہے۔ جبکہ صحیح تعداد 400 سے زیادہ کی ہے 3 دن چلنے والے فرقہ وارانہ تشدد میں شرپسندوں نے تقریباً 2500 کروڑ کی املاک کو تباہ ہو گئی ہے۔ کم از کم 19 مساجد اور 4 مدارس میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے یا ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ جن گھروں اور دکانوں کو لوٹا گیا اور برباد کیا گیا وہ بھی زیادہ تر مسلمانوں کے ہیں۔ فسادات کے دوران شیو وہار جیسے مقامات سے دوسری جگہ منتقل ہونے والے مسلمان ابھی بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں جانے سے ڈر رہے ہیں عینی شاہدین سے بات کی گئی تو اس خوفناک منظر کو بیان کرتے کرتے متاثرین رونے لگے کیونکہ دنگائیوں نے پولیس کی پشت پناہی میں پورا کام مکمل کیا دنگائی مقامی نہیں تھے لیکن انہیں انتظامیہ اور مقامی لوگوں کی مدد حاصل تھی

یہ سب کچھ وزیر داخلہ کی براہ راست ماتحتی میں کام کرنے والی دہلی پولیس کے صرف کچھ نہ کرنے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ متعدد ویڈیو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام واقعات دہلی پولیس کی پہل اور شمولیت سے ہوئے ہیں۔ ایسے کئی ویڈیو ہیں جو یہ صاف دکھاتے ہیں کہ پولیس کے لوگ سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑ رہے ہیں، تاکہ آگ زنی کرنے والوں اور فسادیوں کے چہرے اور حرکتیں ان میں نہ آنے پائیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ پولیس کے لوگ شدید طور پر زخمی لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور ان سے قومی ترانہ گانے کے لئے کہہ رہے ہیں اور انہیں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران ’آزادی‘ کے نعرے لگانے کی وجہ سے طعنے کس رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں پتھر اور اینٹیں اٹھانے میں فسادیوں کی مدد کرتے ہوئے اور فسادیوں کے ساتھ پتھربازی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا یہ بھی بات علم میں آئی ھیکہ پولیس دنگائیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے پیر چھو کر آشیرواد لے رہے تھے
متاثرین کے مطابق پولیس شرپسندوں کے ساتھ مل کر تشدد کر رہی تھی بے گناہوں کو زدکوب کرنے، موت کی گھاٹ اتارنے میں، املاک کو نقصان پہنچانے میں، پیش پیش رہی آدھے سے زیادہ پولیس والے وردی میں ملبوس نہیں تھے اور اب پولیس بے گناہوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح جیلوں میں ٹھوس رہی ہیں
بڑے پیمانے پر امدادی کام جاری ہے لیکن مالی نقصان زیادہ ہونے کی وجہ سے حالات معمول پر آنے وقت لگ جائے گا رپورٹ کے مطابق 2500 کی املاک کو آگ کے حوالے کیا گیا جسمیں اکثریت مسلم کی ہے جو روزانہ کی تنخواہ پر کام کرتے ہیں

اورنگ آباد شاہین باغ کمیٹی نے بھی کوشش کی ھیکہ جن متاثرین کے کاروبار فسادات میں ختم ہوگئے انہیں روزگار سے لگایا جائے کمیٹی کے وفد نے دہلی فساد زدہ علاقوں میں سروے کیا اور غریب متاثرین تک شہریان کی جانب سے جمع کی گئی امداد روزگار کی شکل میں پہنچائی جن متاثرین کو راحت پہنچائی گئی وہ مندرجہ ذیل ہے
1. ناصر خان شاہنور خان، شیو ویہار میں اسپئر پارٹس کی دکان
2. دلشاد محمد، جینس پینٹ بنانے کا کارخانہ شیو ویہار
3. شیخ صابر، دنگائیوں کا نشانہ بنے پیر فریکچر ہوا ہے گھر کے اکیلے کمانے والے ہے مالی مدد کی گئ، نالہ روڑ شیو ویہار
4. لقمان خان، سائیکل رکشہ، شیو ویہار
5. شوکت علی، پولیس کی بربریت کے شکار ہوئے بائے پیر میں گولی لگی تھی مالی امداد، مصطفی آباد
6. مولانا جلال الدین (امام فاروقیہ مسجد ) دنگائیوں کا نشانہ بنے، آپریشن ہونا باقی ہے، مالی امداد، شیو ویہار
7. ابراہیم منصوری، موبائل ریپیرنگ کیٹ، کلر پرنٹر، شیو ویہار
8. سلمان محمد، LCD ٹی وی ریپیرنگ کیٹ، شیو ویہار
9. قاری محمد عرفان (امام اولیاء مسجد ) گھر کے کرائے کے لئے مالی امداد، مصطفی آباد
10. شمشاد خان منصوری، سائیکل رکشہ، بابو نگر
11. عرفان علی، کھینچی بنانے کا سامان، شیو ویہار
12. محمد تبریز، ائیر کمپریشر، وال سیٹر مشین، کھجوری خاص
13. شہزاد انصاری، سلائی مشین، شیو ویہار
14. محمد افضل، سلائی مشین، شیو ویہار
15. فیصل محمد، دنگائیوں نے نشانہ بنایا، پیر فریکچر ہوا ہے مالی امداد کی شکل میں امداد کی گئ، کبیر نگر
16. نظام الدین، ٹھیلہ گاڑی، شیو ویہار
17. ریاض الدین، ٹھیلہ گاڑی، بھگراتی ویہار
18. شمس عالم، ٹھیلہ گاڑی، شیو ویہار
19. انیس بخش، سلائی مشین، کراول نگر
20. محمد سلیم، ٹھیلہ گاڑی، شیوپور گاوں
21. ایوب محمد، ٹھیلہ گاڑی، شیو پور گاؤں
22. دولت شیر، سلائی مشین، شیو ویہار
23. روبینہ پروین محمد غوث، سلائی مشین، شیوویہار
24. علی مجروح، موبائل ریپیرنگ کیٹ، کملا ویہار
25. منظر علی، سلائی مشین، شیو ویہار
26. سفینہ بیگم محمد کلیم، سلائی مشین، کھجوری خاص
27. صالحہ محمد مناظر، ٹھیلہ گاڑی، کھجوری خاص
28. محمد مناظر، ٹھیلہ گاڑی، کھجوری خاص
29. نزہت انجم، سلائی مشین کھجوری خاص
30. محمد امجد، ٹھیلہ گاڑی، کھجوری خاص
اسکے علاوہ اور بھی متاثرین ہے جو مدد کے مستحق و منتظر ہیں آگے بھی مدد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حالات سدھرنے کے لئے دو ماہ کا وقت لگے گا اورنگ آباد شاہین باغ کمیٹی وفد نے متاثرین کی مدد کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے اور شہریان اورنگ آباد نے بھی بڑھ چڑھ کر امداد کی تھی اس وفد میں احمد جلیس، عبدالباسط صدیقی، شہاب مرزا، سید طارق، اور اشرف علی شامل تھے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close