اہم خبریں

دہلی پولیس متاثرین کی شکایتوں پر ایف آئی آر درج نہیں کر رہی: دہلی وقف بورڈ

دہلی پولیس متاثرین کی شکایتوں پر ایف آئی آر درج نہیں کر رہی: دہلی وقف بورڈ
وقف بورڈ کی ریلیف کمیٹی کا بڑا الزام، جمع کرائی گئی شکایتوں پر ایف آر آئی کی ہدایت دینے کے لئے دہلی پولیس کمشنر کو خط لکھا ۔
نئی دہلی ۔ 10 مارچ 2020
دہلی وقف بورڈ کی فساد متاثرین کے لئے بنائی گئی ریلیف کمیٹی نے دہلی پولیس پر بڑا الزام لگاتے ہوئے دہلی کے پولیس کمشنر کو خط تحریر کیا ہے۔ دہلی وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق، راحت کمیٹی کی جانب سے دہلی پولیس کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 7مارچ کے بعد سے فساد متاثرین کے لئے بنائے گئے راحتی کمیپ عید گاہ مصطفی آباد میں متاثرین کی قانونی مدد کے لیئے لیگل ہیلپ ڈیسک لگائی گئی ہے جہاں متاثرین سے ان کی درخواستیں لیکر جمع کی جارہی ہیں۔ تاہم جب ان شکایتوں کو متعلقہ تھانوں میں جمع کرایا گیا تو پولیس نے ایف آئی آر تو دورنہ تو رسیونگ دی اور نہ ہی کوئی ڈائری نمبر دیا جسکی وجہ سے متاثرین کے پاس اپنی شکایتوں کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہے۔

خط کے مطابق اسکی جانکاری فون پر متعلقہ اے سی پی اور ڈی سی پی کو بھی دی گئی جس کے بعد سے 9مارچ سے شکایتوں پر ڈائری نمبر تو دئے جارہے ہیں تاہم ان شکایتوں کو ایف آئی آر میں ابھی بھی نہیں بدلاگیا ہے۔خط میں آگے کہاگیا ہے کہ یہ شکایتیں کراول نگر،دیال پور اور گوکل پوری پولیس تھانوں میں جمع کرائی گئیں تھیں مگر پولیس نے ان شکایتوں کا کسی طرح کا کوئی بھی ثبوت متاثرین کو فراہم نہیں کیا۔

خط میں دعوی کیا گیا ہے کچھ آدھی ادھوری شکایتیں متاثرین کی جانب سے عید گاہ مصطفی باد میں قانونی ڈیسک بنائے جانے سے قبل بھی جمع کرائی گئیں ہیں تاہم ان پر بھی ڈائری نمبر نہیں دیا گیا ہے۔وقف بورڈ کی راحت کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں دہلی پولیس کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ شکایتوں پر ایف آئی آر کرنے یا ڈائری نمبر دینے کی ہدایت متعلقہ پولیس تھانوں کو دیں اسی کے ساتھ جو درخواستیں متاثرین نے عید گاہ مصطفی باد کی قانونی ڈیسک بنائے جانے سے پہلے متعلقہ تھانوں میں جمع کرائی ہیں ان درخواستوں پربھی انھیں تاریخوں کے ساتھ ڈائری نمبر جاری کئے جانے کی ہدایت دی جائے۔

خط میں آگے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عید گاہ مصطفی باد کی قانونی ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ متاثرین کی جو درخواستیں جمع کی گئی ہیں اور جنھیں ایف آئی آر میں بدلا جاچکاہے اس کی کاپی متاثرین کو فورا فراہم کرائی جائے۔ غور طلب ہیکہ دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ بنائی گئی راحت کمیٹی نے عید گاہ مصطفی آبادکیمپ میں متاثرین کی قانونی مدد کے لئے ایک ہیلپ ڈیسک کا قیام کیا تھا جہاں کثیر تعداد میں متاثرین نے اپنی شکایتوں کو جمع کرایا ہے تاہم متاثرین نے جو باتیں بتائی ہیں ان میں کئی چونکانے والے انکشاف سامنے آئے ہیں۔

متاثرین کے مطابق پولیس ان کی شکایتیں لینے میں امتیاز سے کام لے رہی ہے۔متاثرین کے مطابق یا تو پولیس ان کی شکایتیں ہی نہیں لے رہی ہے اور اگر لے بھی رہی ہے تو بنا ثبوت کے۔کئی متاثرین نے بتایاکہ اگر ان کی درخواست میں کسی سرکاری ملازم یا پولیس والے کے خلاف شکایت ہے یا کوئی نامزد ہے تو پولیس ان شکایتوں کے مضمون میں بھی بدلاؤکرارہی ہے۔متاثرین کے مطابق پولیس شکایتوں سے نامزد ملزمین کے نام نکلوارہی ہے خاص کر اگر ان میں پولیس یا کسی سرکاری ملازم کا نام ہے۔

فساد متاثرین کی قانونی مدد کا کام دیکھ رہے دہلی وقف بورڈ کے ممبر ایڈوکیٹ حمال اختر نے بتایا کہ دہلی پولیس پریہ بہت سنجید الزامات ہیں اوریہ بہت افسوسناک بات ہے۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ فساد میں لٹ پٹ گئے اور ان کا جان و مال سب کچھ تباہ ہوگیا اب ان کی شکایتوں پر دہلی پولیس ایف آئی آر بھی نہیں کر رہی اور جو شکایتیں متاثرین دے رہے ہیں ان میں بدلاؤکرارہی ہے اس سے بڑی شرم کی بات اور کیا ہوگی۔حمال اختر نے دہلی پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ لیں اور متعلقہ تھانوں کو صحیح قدم اٹھانے کی ہدایات جاری کریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close