اہم خبریں

مسلمانوں کو چڑھانےکیلئےطلاق ثلاثہ بل پاس کرکےدستورہندکا مذاق اڑایا گیا ہے، مفتی رضوان قاسمی

مسلمانوں کو چڑھانے کیلئے طلاق ثلاثہ بل پاس کرکے دستور ہند کا مذاق اڑایا گیا ہے، مفتی رضوان قاسمی                          —————————————- 

بیرول 1/ اگست ، پریس ریلیز  ( شمیم احمد رحمانی )دستور ہند میں دیئے گئے مذہبی آزادی کو بل زوری کے ذریعہ چھیننے کے لئے  مرکز کی مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ پر کنٹرول اور مسلمان عورتوں سے ہمدردی کے بہانے خواتین حق نکاح تحفظ بل 2019 جو پاس کیا ہے وہ جہاں مسلمانوں کے مذہبی قوانین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، براہ راست شریعت میں مداخلت ہے وہیں یہ  دستور ہند میں دیئے گئے شرعی حق کی پامالی اور  مسلمان مردوں و عورتوں کو سخت مشکلات سے دوچار کرنے والا ہے مذکورہ باتیں یہاں طلاق ثلاثہ بل کی منظوری پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی جمعیت علماء سیمانچل بہار کے صدر جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ نے کہی انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد مسلمانوں کو چڑھانا ، ہندو ووٹ بینک بڑھانا اور دستور ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کا مذاق اڑانا ہے حالانکہ مودی سرکار کے ذریعہ سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے نعرے سے مسلمانان ہند کو امید جگی تھی کہ یہ حکومت ہمارے لئے بھی کچھ اچھا کرے گی لیکن لگتا ہے کہ پارلیمانی انتخاب جیتنے کے بعد اس حکومت کو تکبر آگیا ہے  اور مسلمانوں کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں پے در پے ہجومی دہشتگردی جیسے   بدترین واقعات پیش آ رہے ہیں مسلمان صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس پر سخت قانون سازی کے بجائے مرکزی سرکار نے مسلمان عورتوں کو انصاف دلانے کے بہانے جس کی امید بھی نہیں کی جا سکتی تھی پوری دنیا میں جیسا کہیں بھی  نہیں ہے ویسا ناقابل قبول قانون خواتین حق نکاح تحفظ بل 2019 پاس کرکے ملک کے کڑوروں مسلمانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے جاری پریس ریلیز میں کہا کہ کڑوروں مسلمانوں کو مسائل و مشکلات میں ڈال کر ملک کبھی بھی ترقی یافتہ نہیں بن سکتا ہے حکومت کو کم از کم ملک کے دستور کا، مسلمانوں کے ناقابل تنسیخ پرسنل لاء کا، اور مسلمانوں کے ذریعہ ملک کی آزادی کے لئے دی گئی قربانیوں کا اور آزادی کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کے نمایاں کردار کا لحاظ رکھنا چاہئے اس سے آگے اور کیا کہا جاسکتا ہے انہوں نے جاری پریس ریلیز میں کہا کہ طلاق ثلاثہ پر منظور کردہ بل ایک ایسا معمہ ہے کہ اگر دنیا کا کوئی طالب علم اس قانون پر P,H,D کرے تو پتھر سے اپنا سر ٹکرانے کے سوا کچھ نہیں کرے گا جیسے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی مانا گیا ہے اور اس پر سزا کریمنل ایکٹ کا دیا جارہا ہے شوہر کو تین سال کا جیل ہوگا اور بیوی بچوں کا خرچہ بھی شوہر ہی کو دینا ہوگا جیل سے واپسی کے بعد پھر مطلقہ عورت اسی شخص کی بیوی ہوگی اور یہ قانون صرف مسلمانوں کیلئے بنایا گیا ہے جب کہ ملک میں مسلمانوں کے اندر طلاق کی شرح سب سے کم ہے اور بیک وقت تین طلاق پانے والی مسلمان خواتین برائے نام ہی ہے کوئی بھی پکا سچا مسلمان طلاق ثلاثہ بل کو اس کی موجودہ شکل میں قبول نہیں کر سکتا کیونکہ طلاق ثلاثہ سے متعلق پاس کردہ بل مسلمان عورتوں سے ہمدردی کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ مسلمانوں سے زعفرانی عزائم کے تعصب و نفرت کی عکاسی کا مظہر ہے یہ بل ہندوستانی آئین کی بنیادی روح کے منافی ہے حکومت کو چاہئے کہ اس نے جس جذبے سے بھی یہ قانون سازی کی ہے اب  اس پر غور کرے کیونکہ یہ ملک سبھی کا ہے سب کو اسی میں رہنا ہے اور مسلمان اپنی شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کر سکتا ہے جو مسلمانوں جیسے لوگ اس بل سے خوشی ظاہر کر رہے ہیں یا تو وہ اس کے نکات و دفعات سے ناواقف ہیں یا پھر ضمیر فروش اور آخرت فراموش ہیں جید عالم دین مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے کہا کہ سیکولرازم کا دم بھرنے والی جماعتوں کا چہرہ سامنے آچکا ہے مسلمانوں کو ہمیشہ بیدار رہنا اور صرف اللہ کی نصرت پر بھروسہ کرنا چاہیئے انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ آئین کے تحفظ و دستور کی بالادستی قائم رکھنے کے محافظ عزت مآب صدر جمہوریہ صاحب نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کر لئے ہیں اس لئے ملت اسلامیہ ہند کے قائدین سے میری ہمدردانہ گزارش ہے کہ ملک کے مسلمانوں کو دوبارہ اجتماعی طور پر رسوا ہونے سے بچانے کیلئے آپ حضرات اپنی اپنی انانیت کے چوغہ و دستار سے باہر نکل کر ایک پلیٹ فارم سے ایک آواز نکالیں ہرگز ہرگز مختلف جماعتوں کی جانب سے درجنوں پریس ریلیز جاری نہ کریں اور ڈیڑھ اینٹ کی بنائی ہوئی اپنی اپنی دکانوں میں تالا لگائیں   ورنہ اب وہ دن دور نہیں جب اس سے بھی بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے ” تاریخ کی نظروں نے وہ دور بھی دیکھا ہے : لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close