اہم خبریں

دہلی فسادات معاملہ: عدالت نے دو افراد کو ضمانت دی

نئی دہلی،20جنوری(آئی این ایس انڈیا) دہلی کی ایک عدالت نے گذشتہ سال فروری میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ایک معاملے میں دو افراد کی ضمانت منظور کرلی۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے فسادات کے دوران جعفر آباد کے علاقے میں ایک مقامی شخص کے گھر کو نذر آتش کرنے کے معاملے میں شانو اور ظریف کو20 ہزار روپے کی ضمانت اور اتنی ہی رقم کے مچلکے پریہ ضمانت کی درخواست منظور کی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کی تحویل کی مدت اوریکساں معاملے میں یکساں سلوک کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت کی اجازت دی۔ عدالت نے کہاکہ اس معاملے میں ملزم (شانو اور ظریف) 8 اپریل 2020 سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ یہاں اسی طرح کے کیس کی بنیاد ہے کیونکہ اس معاملے میں شریک ملزم عاتر اور گلفام کو پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی۔ عدالت نے 19 جنوری کو منظور کئے گئے اپنے حکم میں کہاکہ ملزم کی تحویل کی مدت اور اس معاملے کے حقائق اور مجموعی حالات پر غور کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست منظور کی گئی ہے۔ عدالت نے ملزمین کو ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے اور اس کی اجازت کے بغیر دہلی نہ چھوڑنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران دونوں ملزمان کی جانب سے پیش ہوئے وکیل عبدالغفار نے دعویٰ کیا کہ انہیں اس کیس میں غلط طور پر پھنسایاگیا تھا۔ ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس کے سامنے پیش ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر انوج ہنڈا نے کہا کہ وہ مبینہ طور پر اس ہجوم کا حصہ ہیں جس نے مکان کو جلایا تھا۔قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال 24 فروری کو شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں کے ذریعہ مظاہرین پرحملے کے بعد شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے، جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close