اہم خبریں

دہلی کے شاہین باغ میں لاکھوں مظاہرین نے منایا پورے جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

نئی دہلی 26/جنوری (ایچ یو ٹی/ایجنسی) شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں نے آج 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کی تقریب منائی اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں شاہین باغ میں ہی ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے ملک میں نئے انقلاب کی جھلک دکھائی۔

اتوار صبح شاہین باغ میں اسٹیج کی جگہ سے لے کر کلندی کُنج پارک کے آخری کونے تک قریب آدھے کلو میٹر کے احاطے تک لاکھوں لوگ موجود تھے جنہوں نے ایک طرف یوم جمہوریہ کا جشن منایا وہیں شہریت قانون کی سختی کے ساتھ مخالفت کی اور اس قانون کو سرے سے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس موقع پر ایک بڑا بورڈ سامنے ہی آویزاں نظر آرہا تھا جس میں جلی حرفوں میں لکھا گیا تھا کہ ہم ہندوستانی عوام (We the People of India) سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کو مکمل ریجیکٹ کرتے ہیں۔

ذرائع کی مانیں تو شاہین باغ میں دراصل ادھی رات سے ہی یوم جمہوریہ کا جشن شروع ہوگیا تھا جب رات کے بارہ بجتے ہی احتجاجیوں نے دستور کے پیرمبل کو پڑھ کر سناتے ہوئے اور قومی ترانہ پیش کرتے ہوئے اپنی باتوں کو دھرایا کہ شہریت قانون دستور اور آئین کے بالکل مخالف ہے اور ہم اس کو نہیں مانیں گے۔

صبح شاہین باغ کی دادی کے نام سے معروف تین عمر رسیدہ خواتین اور روہت ویملا کی والدہ رادھیکا ویمولا نے مشترکہ طور پر پرچم کشائی کی، جبکہ دھرنے پر بیٹھی خواتین نے دھرنے کے مقام کو ترنگے جھنڈوں اور پھولوں سے سجارکھا تھا جس کے بعد پرچم کشائی کو انجام دیا گیا۔ اس موقع پر تمام مظاہرین نے ایک آواز ہوکر قومی ترانہ گایا۔ ساتھ ہی آئین کے ابتدائیہ (پرمبل) کو بھی پڑھا۔

یاد رہے کہ 15 دسمبر سے شاہین باغ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد دھرنے پر بیٹھی ہے۔ یہ خواتین شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ ایک طرف جہاں شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے، وہیں دوسری طرف مرکزی حکومت نے اس پر سخت رویہ اختیار کررکھا ہے۔ جیسے جیسے مرکزی حکومت اور بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں احتجاج کو دبانے کی کوششیں ہورہی ہیں، ویسے ویسے احتجاجی دھرنے اور شاہین باغ جیسے مظاہرے ملک کے الگ الگ حصوں میں پھیلتے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close