اہم خبریں

شاہین باغ مظاہرہ: دکانداروں کو لاکھوں کا نقصان ! مکان مالک نے ایک ماہ کا کرایہ نہ لینے کا اعلان کیا

نئی دہلی۔۱۶؍جنوری: شاہین باغ میں ایک مہینے سے جاری سی اے اے اور این آر سی مخالف خواتین کے مثالی مظاہرے کی ایک طرف جہاں ملک بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے وہیں اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ مقامی لوگوں کو اس کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کالندی کنج-سریتا وہا ر روڈ بند ہونے کی وجہ سے جہاں سینکڑوں مسافروں کو پریشانی اٹھانی پڑتی ہے وہیں مقامی دکانداروں کے بھی کاروبار بند ہیں۔دراصل، مظاہرے کے مقام کے نزدیک سیکڑوں قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کے شوروم اور فرنچائزی موجود ہیں لیکن تحریک کی وجہ سے پچھلے ایک مہینے سے وہ پوری طرح بند ہیں۔ دریں اثنا، کچھ مکان ملکان نے مظاہرے کو قوم کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے دکانداروں سے ایک مہینے کا کرایہ نہ وصولنے کا اعلان کر دیا ہے۔خبر رساں ایجنسی یو این آئی کو ایک دکاندار نے کہا کہ مظاہرے کی وجہ سے ان کا لاکھوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ سردیوں کے لئے جو گرم کپڑے لائے گئے تھے سب دکان میں بند ہیں۔ ایک دیگر دکاندار نے کہا کہ سردیوں کے کپڑوں کو واپس کمپنی بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔اس تحریک کے سلسلے میں سریتا وہار، مدن پور کھادر اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو شدید دقتیں ہو رہی ہیں۔ مقامی لوگوں نے 12جنوری کو سریتا وہار سے جنوب مشرقی ضلع کے پولیس ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک مارچ نکال کر منگل تک روڈ ٹریفک بحال کرنے کا الٹی میٹم دیا۔ شاہین باغ میں مظاہرے کے پیش نظر کالندی کنج سے سریتا وہار کی سمت آمدو رفت بالکل بند ہے۔ لوگوں کو آشرم ہوکر ڈی این ڈی سے نوئیڈا آنے جانے میں لمبے ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ کے مطابق نقصان برداشت کر رہے دکانداروں کو مکان مالکان کی جانب سے کچھ راحت ملی ہے۔ مکان مالکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی بلڈنگوں میں چل رہے شورومز اور دکانوں کا ایک مہینے کا کرایہ وصول نہیں کریں گے۔مقامی رہائشی رضوان احمد کی بلڈنگ میں چھ بڑی کمپنیوں کے شورومز موجود ہیں اور ہر ایک شو روم سے انہیں ایک سے لے کر ڈیڑھ لاکھ تک کا کرایہ موصول ہوتا ہے لیکن سی اے اے اور این آر سی کے خلاف چل رہے احتجاج کی وجہ سے تمام شورومز بند ہیں۔ اس کے پیش نظر انہوں نے اپنے کرایہ داروں سے ایک مہینے کا کرایہ وصول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔رضوان نے کہا، ’’تحریک کی وجہ سے دکانیں نہیں کھل سکیں۔ ان کی آمدنی نہیں ہوئی تو میں ایک مہینے کا کرایہ نہ لے کر ان کا نقصان کچھ حد تک کم کر سکتا ہوں۔ تحریک بہت ضروری ہے۔‘‘اسی علاقہ میں سونو وارثی کی بھی دکان ہے۔ ان کی بلڈنگ میں چار دکانیں موجود ہیں۔ سونو اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے نیوز لانڈری کو بتایا، ’’میری بلڈنگ میں چار دکانیں ہیں، جن میں سے کسی سے 70 تو کسی سے 80 ہزار روپے کرایہ آتا ہے۔ ابھی تو ہم نے ایک مہینے کا کرایہ موصول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ تحریک جب تک بھی جاری رہے گی میں اپنے کرایہ داروں سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کروں گا۔ ‘‘ سونو نے کہا کہ یہ تحریک ہماری جمہوریت کی حفاظت کے لئے چل رہی ہے اور اس میں میرا یہ تعاون انتہائی حقیر ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close