اہم خبریں

سی اے اے، این آرسی کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کی ضرورت : سونیا گاندھی

سی ڈبلیو سی میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق بری نیت سے لائے گائے شہریت ترمیمی قانون کی ملک گیر سطح پر مخالفت ہو رہی ہے اور اس کے آئینی جواز اور سیاسی اخلاقیات پر سوال اٹھائے گئے ہیں ۔

نئی دہلی ۔ 11 جنوری 2019 : کانگریس صدر سونیا گاندھی نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ انکے خلاف مظاہروں سے متعلق واقعات کی جانچ کرنے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ایک وسیع اعلی اختیار کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے۔
سونیا گاندھی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی کا اترپردیش حکومت اور دہلی کے لیفٹینٹ گورنر پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اس لیے پارٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ سی اے اے اور این آرسی کے خلاف مظاہروں سے متعلق واقعات کی جانچ کرنے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ایک وسیع اعلی اخیتار یافتہ کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے۔
میٹنگ میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد، سینئر لیڈر پرینکا گاندھی، کے سی وینوگوپال ،اے کے انٹونی، ملکا ارجن کھڑگے، ہریش راوت، پی چدمبرم، امبیکا سونی، موتی لال ووہرا، پی ایل پنیا، آنند شرما، ترون گوگوئی اور احمد پٹیل اور دیگر رہنماؤں نے حصہ لیا۔
انھوں نے سی اے اے کے منظور ہونے کے عمل کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی کے لیے بڑا موضوع ہونا چاہئے ۔سی اے اے بانٹنے والا اور تعصب پر مبنی قانون ہے ۔یہ ہر وطن پرست ،رواداراور سیکولرہندستانی کے لیے تکلیف دہ ہے ۔اس نے ہندستانیوں کو مذہب کے نام پر بانٹ دیاہے ۔سماج کے ہرطبقہ اور طلبا کو اس کے نتائج سمجھ میں آرہے ہیں۔
اس کے خلاف وہ سردی میں سڑکوں پر اترے ہیں اور پولیس کی زیادتی بھی برداشت کررہے ہیں۔ انکے احتجاج سے وزیراعظم نریندرمودی اور وزیرداخلہ امت شاہ پریشان ہیں اور روزآنہ اکسانے والی بیان بازی کررہے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ یہ سال جدوجہد،تاناشاہی ،اقتصادی بحران ،جرم اور تلخ رشتوں کے ساتھ شروع ہوا ہے۔
قرارداد کے مطابق بری نیت سے لائے گائے شہریت ترمیمی قانون کی ملک گیر سطح پر مخالفت ہورہی ہے اور اس کے آئینی جواز اور سیاسی اخلاقیات پر سوال اٹھائے گئے ہیں ۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے )اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آرسی )نے ملک کی مذہبی اور لسانی اقلیتوں ،آدی واسیوں ،غریبوں اور محروم طبقوں کے دل میں خوف کا ماحول پیدا کیا ہے۔
کانگریس مانتی ہے کہ جمہوریت میں شہریوں کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے اور لوگوں کی تشویش اور سروکاروں کا حل تلاش کرنا حکومت کا فرض ہے ۔کمیٹی حکومت کے رویہ پر تشویش ظاہر کرتی ہے اور مخالفت کو دبانے کےلیے طاقت کے استعمال کی مذمت کرتی ہے۔
قرارداد میں کہاگیاہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی اپنی اکثریت کا استعمال غیر حساس طریقہ سے امتیازی سلوک پر مبنی اور تقسیم کے ایجنڈے کونافذ کرنے کے لیے کررہی ہے ۔کمیٹی نے متنبہ کیا کہ تقسیم پر مبنی ایجنڈے سے صف بندی ہوگی ،سماج میں ایک ناسور بنے گا ۔اس سے قومی یکجہتی اور سالمیت اور سماجی استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔
قرارداد میں معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ حکومتکو معیشت کورفتار دینے کے لیے جامع منصوبہ بنانا چاہئے جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد پیداہو اور نوجوانوں کو روزگار مل سکے ۔جموں کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کمیٹی نے کہاکہ ریاست میں پابندیاں ہٹا لینی چاہئیں اور لوگوں کو بنیادی حق دینا چاہئے ۔حکومت کو قومی مسائل پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ٹکراؤ اور کسی چیز کو مسلط کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close