اہم خبریں

شہریت ترمیمی بل کے خلاف امریکی ادارہ آیا سامنے، امت شاہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ!

شہریت ترمیمی بل پر ایک طرف ملک میں حزب اختلاف کی جماعتیں اور عوام سراپا احتجاج ہیں اور دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی بدنامی ہونے لگی ہے ۔
واشنگٹن ۔ 10 دسمبر 2019 (یو این آئی)
شہریت ترمیمی بل کے لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد جہاں ایک طرف ملک میں حزب اختلاف کی جماعتیں اور عوام سراپا احتجاج ہیں اور حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں وہیں دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی بدنامی ہونے لگی ہے۔ امریکہ کے ایک ادارے نے تو امت شاہ پر پابندی تک عائد کرنے کا مطالبہ کر ڈالا ہے۔ امریکہ کے فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں شہریت ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد امریکی حکومت ہندوستان کے وزیرداخلہ امت شاہ پرپابندی عائد کرے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکہ کے فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے ہندوستانی لوک سبھا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کی منظوری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا اس متنازع بل کی ہندوستان کے ایوان میں منظوری تشویش کا باعث ہے اور امریکی حکومت کو چاہئے کہ وہ بل کو پیش کرنے والے ہندوستانی وزیرداخلہ امت شاہ پرپابندی لگائے۔

امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پرمسلمانوں کوبل میں شامل نہیں کیا گیا اور یہ بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے ۔ نیز حکومت ہند ایک عشرے سے کمیشن کی رپورٹوں کو نظراندازکررہی ہے۔ ادھر، ہندوستانی وزارت خارجہ کی جانب سے امریکی ادارے ’فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی‘ کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی بل سے متعلق یو ایس سی آئی آر ایف کا بیان درست نہیں ہے اور یہ بلاضرورت دیا گیا بیان ہے۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا، شہریت ترمیمی بل پڑوسی ممالک سے ہندوستان میں موجود مظلوم مذہبی اقلیتوں کو فوری طور پر راحت فراہم کرنے کے لئے ہے۔ یہ ان کی موجودہ مشکلات کو دور کرنے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیز نہ تو شہرت ترمیمی بل اور نہ ہی این آر سی (قومی شہریت رجسٹر) عمل کسی بھی عقیدے کے ہندوستانی سے اس کی شہریت چھیننے کی کوشش نہیں کرتے۔ امریکہ سمیت ہر ملک کو اپنی شہریت دینے اور توثیق کرنے کا حق ہے اور اس کے لئے مختلف پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close