اہم خبریں

ہندوستانی آئین پر بی جے پی کو یقین نہیں : اکھلیش

ہندوستانی آئین پر بی جے پی کو یقین نہیں : اکھلیش

اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا معاملے کی سماعت ابھی سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ پھر ایک اخبار اور وزیر اعلی یوگی کو کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ کیا ہوگا۔

لکھنؤ ۔ 06 اکتوبر 2019 (یو این آئی) ایودھیا میں متنازع حق ملکیت کے معاملے میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی بالواسطہ تبصرہ پر طنز کستے ہوئے سماجو ادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو آئین و قانون پر بھروسہ نہیں ہے، اکھلیش یادو نے اتوار کو پارٹی دفتر پر منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا معاملے کی سماعت ابھی سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ پھر ایک اخبار اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ کیا ہوگا۔ دراصل بی جے پی کو آئین اور قانون پر بھروسہ نہیں ہے جبکہ ان کی پارٹی اس معاملے میں ہر ہندوستانی شہری کی طرح عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں جینتی کے موقع پر 36 گھنٹوں تک چلے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کا مذاق اڑاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کا سب کام رات میں ہی کیوں ہوتا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسا عوام کو پریشان کرنے والے فیصلوں کا اعلان بھی رات میں ہی کیا گیا۔ رات میں اسمبلی کی کارروائی چلانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ 36 گھنٹوں کی طرح اسمبلی کا اجلاس سات دن بھی چلایا جاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے اپنے موجودہ میعاد کار میں صرف سماج وادی پارٹی(ایس پی) حکومت کی اسکیمات کو ہی آگے بڑھایا ہے جبکہ اس کا جھوٹا کریڈٹ لینے میں دیر نہیں کی۔ میٹرو ریل، پوروانچل ایکسپریس وے اور رائے بریلی و گورکھپور میں ایمس سمیت تمام اسکیمات سماج وادی پارٹی نے شروع کی۔ اس کےعلاوہ بی جے پی نے اپنے میعاد کار میں ایک بھی بجلی پلانٹ شروع نہیں کیا۔

اکھلیش یادو نے ضمنی انتخابات کو غیرجانبدارانہ طریقے سے منعقد ہونے پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رامپور کے ڈی ایم اورایس پی کو بدلے جانے کی پارٹی کے مطالبے پر کمیشن نے توجہ نہیں دی ہے۔ یہ ضمنی انتخاب میں دھاندھلی کرا سکتے ہیں۔ بی جے پی حکومت ای وی ایم کا فائدہ لینے کے سات ضلع انتظامیہ کا بھی ساتھ لینے میں ماہر ہوچکی ہے۔

ایس پی صدر نے کہا کہ انہیں الہ آباد کے ڈی جے ایسوسی ایشن کا خط ملا ہے کہ کاروبار سے جڑے ایک کروڑ لوگوں کا روزگار چھین لیا گیا ہے۔ ملک کےسارے کاروبار پر بی جے پی حکومت نے پابندی عائد کردی ہے۔ ہر جگہ سودیشی اپنانا چاہتے ہیں لیکن اب ’پرائیویٹائزیشن‘ کر رہے ہیں۔ ان کے ہر قدم سے سب سے زیادہ نقصان دلت وپسماندہ سماج کا ہوگا۔ ان کی نوکری اور احترام چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close