اہم خبریں

سیمی کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کو سیشن کورٹ سے راحت !

سیمی کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کو سیشن کورٹ سے راحت !
ایک ہی جرم کی سزا دو بارنہیں دی جاسکتی، سیشن عدالت، دفاعی وکلا کے دلائل سے متفق

ممبئی ۔ 25 ستمبر 2019 (انصار عزیز ندوی)
ممنوع تنظیم سیمی کے رکن نیز غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کرنے پاکستا ن جانے والے معاملے میں آج ممبئی کی خصوصی سیشن عدالت نے ایک جانب جہاں ایک ملزم کو یہ کہتے ہوئے راحت دی کہ ایک ہی الزام کی سزا دو بار نہیں دی جاسکتی وہیں دوسرے ملزم کو معمولی سزا دیتے ہو ئے اسے بھی مزید عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے سے راحت پہنچائی۔ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفاعی وکلاء نے خصوصی سیشن عدالت میں دوران بحث یہ سوال اٹھایا تھا کہ ایک ہی الزام کی دو مرتبہ سزا نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی ایک ہی الزام کے لیئے دو مقدمات قائم کیئے جاسکتے ہیں جسے آج عدالت نے قبول کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ تحقیقاتی دستہ نے ملزمین شبیر مسیح اللہ،(مرحوم) محمد علی شیخ اور نفیس احمد شیخ کو اس الزام کے تحت گرفتار کیا تھاکہ وہ ممنوع تنظیم سیمی کے رکن ہیں اور دبئی کے راستے پاکستان جاکر ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کی تھی اور گنپتی کے موقع پر ممبئی اور مضافات میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام د ینا چاہتے تھے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ خصوصی جج کوٹھلیکر کو دفاعی وکلاء عبدالوہاب خان اور شریف شیخ نے دوران سماعت بتایا تھاکہ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزم محمد علی شیخ کو7/11سلسلہ وار بم دھماکہ کیس میں سیمی کا رکن ہونے، پاکستان سے ٹریننگ حاصل کرنے کے الزام کے تحت خصوصی مکوکا عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔لہذا اب اسے اسی الزام کے تحت دوبارہ سزا نہیں سنائی جاسکتی حتی کہ اس کے خلاف مقدمہ ہی نہیں بنتا ہے کیونکہ دونوں مقدمات کے گواہان ایک ہی ہیں جنہوں نے دونوں مقدمات میں ایک ہی جیسی گواہی بھی دی ہے۔دفاعی وکلاء نے عدالت میں 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ کے فیصلہ کی اصل کاپی بھی پیش کی تھی۔ لہٰذا اس مقدمہ میں فیصلہ سناتے وقت عدالت نے دفاعی وکلا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہاکہ ملزم محمد علی کو 7/11مقدمہ میں سزا ہوچکی ہے لہذا اسے دوبارہ سزا نہیں دی جاسکتی البتہ دوسرے ملزم نفیس کو یو اے پی اے قانون کی دفعہ 10 کے تحت قصور وار پایا گیا ہے اور ابتک اس نے جتنے دن جیل میں گذارے ہیں اسے ہی سزامان لی جاتی ہے، عدالت کے اس فیصلہ کے بعد ملزم نفیس کو جیل نہیں جاناہو گا کیونکہ اسے گرفتاری کے دو سال بعد ضمانت پر رہاکیا گیا تھا۔خیال رہے کہ آئین ہند کی دفعہ 20(2)اور تعزیرات ہند کی دفعہ 300(1) کے تحت ایک ہی الزام کے تحت کسی بھی ملزم کو دو بار سزا نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس کے خلاف دوسرا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔قانونی اصطلاح میں اسے ڈبل جیوپارڈی کہتے ہیں۔آج عدالت کا فیصلہ ظاہر ہونے کے بعد گلزار اعظمی نے کہا کہ آج کے فیصلہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تحقیقاتی دستہ غیر قانونی طریقے سے مقدمہ قائم کر کے ملزم کو پریشان کرتے ہیں،جس کی بناء پر انہیں عدالت کے فیصلوں کے بعد ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ محمد علی کوسلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں میں خصوصی مکوکا عدالت سے ملی ہوئی عمر قید کی سزا کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی جاچکی ہے اور ہمیں امید ہے کہ ملزم کو ہائی کورٹ سے راحت حاصل ہوگی کیونکہ اس پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ فیصلہ کے وقت عدالت میں جمعیۃعلماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے مقدمہ کی پیروی کے لئے ایڈوکیٹ عبدالوہا ب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی،ایڈوکیٹ ارشد شیخ،ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ شروتی ویدیا، ایڈوکیٹ عادل شیخ و غیرہ موجود تھے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close