اہم خبریں

حاملہ خواتین کی کووڈ19 جانچ کے مسئلے کونوکرشاہی کے جال میں الجھادیاگیا: ہائی کورٹ

نئی دہلی،9جولائی(آئی این ایس انڈیا) ڈلیوری یا ضروری علاج کے لئے اسپتال جانے والی ہر حاملہ خاتون کو کووڈ19 کی اسکریننگ کرانے کی ضرورت ہے یانہیں،اس بارے میں حالات واضح نہیں ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کوآپ حکومت سے کوپھٹکارلگائی۔ عدالت نے کہا کہ ایک حقیقی معاملہ کونوکرشاہی کے جال میں الجھادیاگیاہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر تفتیش ضروری ہے تو کم سے کم وقت میں نمونہ لے کرنتیجہ بتانا چاہئے۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پریتک جالان کی بنچ نے کہا کہ عوامی مفادعامہ کی درخواست( پی آئی ایل) دائر ہونے کے بعدسے دہلی حکومت کو حاملہ خواتین کی تیزی سے جانچ کرنے اور نتائج دینے کے لئے چار سے پانچ مواقع دئے گئے لیکن صورتحال واضح نہیں کی گئی۔بنچ نے کہاکہ ایک فوری انسانی مسئلہ بیوروکریسی کے جال میںالجھا دیاگیا ہے، یہ مکمل طور پر ناقابل معافی ہے، ہمیں وضاحت کے لئے کتنا وقت انتظار کرنا پڑے گا۔

درخواست دائر ہونے کے بعد سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے چار پانچ مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ متعلقہ عہدیدارالجھن میں مبتلا ہیں اور انھیں یہ نہیں سمجھ آرہی ہے کہ حاملہ خاتون ڈلیوری سے 48 گھنٹے پہلے ہسپتال نہیں جاسکتی ہے۔عدالت نے کہاکہ جب حاملہ خاتون کی ڈلیوری یا سرجری کے لئے جاتی ہے تو وہ نتیجہ کے لئے 48 گھنٹے انتظار نہیں کر سکتی،کئی بار کسی کو آخری لمحے میں ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close