اہم خبریں

کانگریس اور آرجے ڈی کے بیان کے بعدنئے امکانات پرقیاس آرائیاں شروع : کیا رام ولاس پاسوان کانگریس کے ساتھ ہے ؟

نئی دہلی4جولائی(آئی این ایس انڈیا) کیابہارکی سیاست میں نیامنظرنامہ سامنے آئے گا؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہونا شروع ہوا کیوں کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش سنگھ کا بیان پہلے آیا ، جس میں انہوں نے کہاہے کہ رام ولاس پاسوان کانگریس کے ساتھ رابطے میں ہیں ، اب آرجے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے کہاہے کہ ہر الیکشن نئے تال میل کے امکانات پیش کرے گا ۔آر جے ڈی کے ممبرپارلیمنٹ منوج جھا نے اکھلیش سنگھ کی گفتگوپرکہاہے کہ اکھلیش سنگھ نے اس وقت جو کچھ کہا ہے وہ واضح نہیں ہے لیکن رام ولاس پاسوان کو پہلی بارپارلیمنٹ بھیجنے میں آر جے ڈی کابھی اہم کردارتھا۔ لہٰذاہر الیکشن ایک نئے سیاسی مساوات کے امکان کو کھولتا ہے۔

رام ولاس پاسوان این ڈی اے چھوڑ دیں گے یا نہیں،ان کی رائے ہوگی، لیکن سیاست میں نئے مساوات بنتے اور خراب ہوتے چلے جاتے ہیں۔آر جے ڈی کا کہنا ہے کہ کانگریس اور آر جے ڈی برسوں سے ساتھ رہے ہیں۔ آر جے ڈی نے کانگریس کے عرش سے فرش تک کا سفر دیکھا ہے ، لیکن پھر بھی دونوں جماعتیں ایک ساتھ ہیں۔اگردوسری جماعتوں کے ساتھ اکٹھے ہونے کی بات کی جارہی ہے تو پھر اس میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ، کیونکہ اگرمعاملات پر اتفاق رائے ہوجائے تو باقی سب کچھ آرام سے طے ہوسکتا ہے ، چاہے سیٹ شیئرنگ کامعاملہ ہو۔آر جے ڈی کے ممبر پارلیمنٹ منوج جھا نے کہاہے کہ رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی میں کیا ہورہا ہے ، پاسوان جی بہترجانتے ہوں گے۔

تاہم  انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ چراغ پاسوان ناراض دکھائی دیتے ہیں۔آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ نے کہاہے کہ ایل جی پی صدر چراغ پاسوان کے بیانات سے ایسالگتاہے کہ وہ ناراض ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جو سیاسی اتحاد تشکیل پاتاہے۔ ایک بار صورت حال واضح ہوجائے تویہ واضح ہو جائے گا۔اس سے قبل یہ معلومات سامنے آئی تھیں کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش سنگھ نے کانگریس ہائی کمان کی میٹنگ کے دوران بہارکے رہنماؤں کے ساتھ یہ معلومات شیئر کی تھی کہ رام ولاس پاسوان کانگریس کے ساتھ رابطے میں ہیں اوربہارانتخابات کے لیے بات چیت جاری ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close