اہم خبریں

تارکین وطن مزدوروں کے رجسٹریشن کا انتظام کرنے کی اشد ضرورت : ہائی کورٹ

نئی دہلی، 30 جون (آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ تارکین وطن کارکنان کے رجسٹریشن کے لئے بہتر طریقہ کار وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انہیں مختلف فلاحی منصوبوں کافائدہ پہنچ سکے۔ جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے مرکز کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں ایسے پورٹل کا ذکر کرنا ہوگا جس کااستعمال ملک میں تارکین وطن کارکنان کے رجسٹریشن کے لئے کیاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ تمام ریاستی حکومتوں کے پاس ایک پورٹل ہونا چاہئے جو تارکین وطن کارکنان کی آمد اور روانگی کا مکمل ریکارڈ رکھتا ہو۔

انہوں نے کہاکہ تارکین وطن کارکنان کے رجسٹریشن کے لئے ایک طریقہ کار بنانے کی اشد ضرورت ہے۔عدالت نے کہا کہ بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن ورکرز (بی او سی ڈبلیو) ایکٹ اور 1979 کے بین ریاستی تارکین وطن ملازمین ایکٹ کے تحت اندراج یا لائسنسنگ کے عمل سے کچھ پیشرفت ہوئی ہے۔ عدالت نے کہاکہ اس صورتحال کو تبدیل کرنا ہوگا اور ایسا نظام بنانا ہوگا جس سے تارکین وطن مزدوروں کو تحفظ حاصل ہو اور وہ قانون کے تحت مستفید ہوں، اب ہائی کورٹ 22 جولائی کو کیس کی سماعت کرے گی۔ عدالت کی ہدایت مرکز اور دہلی حکومت کی جانب سے ایک درخواست کے جواب میں دائر حلف ناموں پر غور کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

درخواست میں قومی دارالحکومت میں 1971 کے قانون کو نافذ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت رجسٹریشن آفیسرز، لائسنسنگ افسر، اپیلیٹ آفیسر اور انسپکٹرکی تعیناتی کی جاتی ہے۔ دہلی حکومت نے بتایا کہ 1971 کے مذکورہ قانون کے تحت کوئی رجسٹرڈ ٹھیکیدار نہیں ہے، تاہم 1996بی او سی ڈبلیو ایکٹ کے تحت تارکین وطن کارکنان کے رجسٹریشن کے بارے میں دہلی حکومت نے کہا کہ تعمیراتی کارکنوں کے لئے مختلف اسکیمیں ہیں۔

دہلی حکومت نے کہا کہ یہ کارکن ’ای ڈسٹرکٹ‘ پورٹل کے ذریعے رجسٹرڈ ہیں۔ کووڈ19 کی وجہ سے لاک ڈاؤن مدت میں 39600 رجسٹرڈ تعمیراتی مزدوروں کو مالی مدد فراہم کی گئی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مزدوروں کے رجسٹریشن کے لئے متفقہ رجسٹریشن فارمیٹ کی تیاری پر وزارت محنت و روزگار نے 16 جون کو ویڈیو کانفرنس میٹنگ کی تھی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close