اہم خبریں

ہائی کورٹ نے لگائی مرکز کوپھٹکار،کہاحکومت کارویہ حیران کن : عدالت نے ای آئی اے 2020 ڈرافٹ پر تجویز پیش کرنے کی میعاد11 اگست تک بڑھائی

نئی دہلی، 30 جون (آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو ماحولیاتی اثرات کی تشخیص (ای آئی اے) کے مسودہ 2020 کے نوٹیفکیشن کے بارے میں تجویز کی مدت میں 11 اگست تک کی توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میعاد کے بارے میں ابہام دور نہیں کرنے کے مرکزکے رویے سے حیران ہے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پرتیک جالان کی بنچ نے یہ حکم منظور کیا۔بنچ نے پیر کو کہا تھا کہ مرکزی حکومت کے اپنے ماحولیاتی اثرات کی تشخیص (ای آئی اے) کے مسودہ 2020 کے نوٹیفکیشن پر اعتراض درج کرنے اور تجاویز کے لئے آخری تاریخ 30 جون تک بڑھانے کاجو فیصلہ لیاہے ، اس میں ابہام پایا گیا ہے۔

وزارت ماحولیات کے ذریعہ مبہم سوالات کے جواب نہ دئے جانے کے بعد عدالت نے مدت 11 اگست تک بڑھا دی۔ بنچ نے کہا کہ وہ ابہام دورکرنے کے مرکزی حکومت کی ضد سے حیران ہے۔ وزارت ماحولیات کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہاکہ اس میں (حلف نامے میں) ابہام دورکرنے سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں آیا ہے۔ آپ کے جواب میں مرکزی نقطہ پربالکل خاموشی ہے۔ واضح طورپرکہیں تو ہم مرکزی حکومت کی ضد سے تھوڑا حیران ہیں۔ حکومت اس معاملے میں ہٹ دھرم رویہ اپنا رہی ہے۔عدالت نے یہ بھی کہاکہ ابہام سے متعلق عدالت کے سوال کا جواب دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی، آپ کے جواب میں ایک واضح خاموشی ہے، یہ ہمارے سوال کا جواب نہ دینے کے مترادف ہے۔عدالت نے کہا کہ وہ حکومت کے رویہ سے ناراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں سے مشورہ کرنے کا عمل کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔بنچ نے کہاکہ اس (غور و فکر) کی کچھ اہمیت ہے، اس کی کچھ پاکیزگی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اے آئی اے 2020 کے مسودے پر تجویز کیلئے کورونا وائرس عالمی وبائی مرض کے خطرہ بنے رہنے تک ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کے لئے ماحولیاتی تحفظ پسند وکرانت ٹونگڑ کی درخواست جزوی طور پر قبول کررہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک مفصل آرڈر کا انتظار ہے۔تونگڑکی پیروی کررہے سینئر ایڈوکیٹ گوپال شنکرارائنن نے کہا کہ یہ پریشان کن ہے کہ اپنے حلف نامے کے مطابق حکومت نے اس منصوبے کے 78000 سے زیادہ حامیوں کو ای میل بھیج کرانہیں مسودہ اے ای آئی اے مسودہ کے بارے میں معلومات دی اور ان سے تجاویز طلب کی لیکن وہ علاقائی زبانوں میں اسے شائع کرنے کی خواہشمند نہیں ہے۔ سماعت کے دوران انہوں نے اپیل کی کہ عدالت وزارت کو ای آئی اے 2020 کا مسودہ تمام علاقائی زبانوں میں شائع کرنے کا حکم دے تاکہ زیادہ تر لوگ اس کو سمجھ سکیں اور اس پر اپنی تجاویز یا اعتراضات پیش کرسکیں۔ اس سے قبل عدالت نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس کے ای آئی اے مسودے 2020 کے نوٹیفکیشن پر اعتراضات درج کرنے اور آخری تاریخ 30 جون تک بڑھانے کاجو فیصلے کیاہے ،وہ مبہم ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close