اہم خبریں

ٹیچرکے 25 اسکولوں میں کام کرنے اور ایک کروڑ روپئے تنخواہ لینے کے الزام کی تصدیق نہیں: یوپی سرکار

لکھنؤ،05؍ جون ( آئی این ایس انڈیا ) ایک خاتون ٹیچرکی 25 اسکولوں میں ملازمت کرنے اور 13 ماہ میں 1 کروڑ روپئے سے زائد تنخواہ وصول کرنے کی خبروں کے بعد یوپی حکومت نے جمعہ کے روز کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور ابھی کچھ واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا۔اسکول ایجوکیشن کے ڈائرکٹر جنرل وجے کرن آنند نے بتایاکہ میڈیا میں ایسی خبریں آنے کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ ابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے،

جس خاتون ٹیچر کا نام سامنے آیا ہے اور اس کی کچھ معلومات نہیں ہے۔ خبروں میں کہا جارہا ہے کہ خاتون ٹیچر نے ایک کروڑ روپے تنخواہ لی ہے۔ یہ سب سچ نہیں ہے اور ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اگر یہ الزامات سچ ثابت ہوئے تو ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ تنخواہ کی ادائیگی بینک اکاؤنٹ میں نہیں کی گئی۔ ڈویژنل حکام تفتیش کر رہے ہیں۔ اگر کوئی ٹیچر ایک سے زائد اسکولوں میں غلط طریقے سے پڑھا رہا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایک شکایت کے مطابق مین پوری کی رہنے والی ایک خاتون ٹیچر بیک وقت 25 اسکولوں میں کام کرتی تھی اور اس نے گزشتہ 13 ماہ کے دوران ایک کروڑ روپے سے زائد تنخواہ لی ہے۔

اس خاتون پر الزام ہے کہ اس نے کستوربا گاندھی بالیکہ اسکول، امبیڈکر نگر، باغپت، علی گڑھ، سہارن پور، پریاگ راج اور دیگر مقامات پر ایک ساتھ کام کیا ہے۔کستوربہ گاندھی ودیالیہ میںٹیچروںکو معاہدے کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے اور انہیں ماہانہ 30000 روپے تنخواہ ملتی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close