اہم خبریں

اب ریلوے کی وضاحت : صرف 4 ٹرینوں کو لگا 72 گھنٹے سے زیادہ کا وقت

نئی دہلی،29مئی (آئی این ایس انڈیا) ریلوے بورڈ کے چیئرمین نے ورکرز اسپیشل ٹرینوں کو لے کر اپنی بات عوام کے سامنے رکھی۔انہوں نے کہا ٹرینیں تیار ہیں اور جیسے ہی ریاستوں کی جانب سے انہیں چلانے کی اجازت ملے گی، فورا انہیں چلا دیا جائے گا،ساتھ ہی انہوں نے ملازمین بھائی بہنوں سے فریاد کہ جو بھی مزدور بھائی بہن جہاں بھی ہوں، وہاں رہیں۔ریاستوں سے اجازت ملتے ہی ٹرینیں چلا دی جائیں گی۔

ریلوے کے مطابق 80 فیصد مزدور یوپی- بہار میں گئے ہیں۔ریلوے اور ریاستوں کی مدد سے قریب 52 لاکھ لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچایا گیا،ساتھ ہی ریلوے کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ ٹرینوں کے راستہ بھولنے کی خبریں غلط ہیں اور یہ بتایا کہ کتنی ٹرینوں کو ڈائیورٹ کیا گیا۔ریلوے نے یہ بھی کہا کہ کئی جگہوں سے کھانے پینے کی دقتیں ہونے کی اطلاعات ملیں،کئی جگہ لوکل بسوں کو لے کر دقت آئی۔ایسے میں وہاں پر لوکل ٹرینیں چلائی گئیں، تاکہ مزدور بھائی بہن اپنے گھر پہنچ سکیں،ٹرینیں دوپہر 2 بجے سے رات 12 بجے تک کے درمیان چلائی گئیں،کھانے پینے کا بندوبست کرنے میں کافی وقت لگا، لہذا صبح سے دوپہر تک کے وقت میں ٹرینیں نہیں چلائی جا سکیں۔

گزشتہ دنوں بھی خبریں سامنے آئیں، جس میں کہا گیا کہ کچھ ٹرینیں راستہ بھٹک گئیں۔اس پر ریلوے کی جانب سے کہا گیا کہ 1-19 مئی اور 25-28 مئی کے درمیان کوئی بھی ٹرین ڈائیورٹ نہیں ہوئی،صرف 20-24 مئی کے درمیان ریاستوں کا مطالبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ ٹرینوں کو ڈائیورٹ کیا گیا۔ریلوے بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ ایک دن میں 279 تک ٹرینیں چلائی گئیں،کسی بھی دن 250 ٹرینوں سے کم نہیں چلیں،ان میں سے 90 فیصد صرف یوپی- بہار کو گئیں، جس سے نیٹ ورک کافی جام ہو گیا۔انہوں نے بتایا کہ اب تک کل 3840 ٹرینیں چلیں، جن میں سے 71 ٹرینوں کو ڈائیورٹ کیا گیا، وہ بھی صرف 20-24 مئی کے وسط میں تاکہ ریاستوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close