اہم خبریں

کورونا بحران پر 22 اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ : سونیا نے اقتصادی پیکیج کو عوام کے ساتھ ظالمانہ مذاق بتایا

نئی دہلی،22مئی(آئی این ایس انڈیا) کانگریس سمیت 22 اپوزیشن جماعتوں نے جمعہ کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میٹنگ کرکے کورونا وائرس وبا کے درمیان مہاجر کارکنوں کی صورت حال اور موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔میٹنگ کی صدارت کر رہی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے نریندر مودی حکومت کے 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج کو عوام کے ساتھ ظالمانہ مذاق قرار دیا اور الزام لگایا کہ حکومت جمہوریت کی روح کے خلاف کام کر رہی ہے اور ساری طاقتیں وزیر اعظم کے دفتر تک محدود ہو گئی ہیں۔اس میٹنگ میں بحث کے آغاز سے پہلے لیڈروں نے دو منٹ کی خاموشی رکھ کر’امپھان‘ طوفان کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا،پھر ایک قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ فوری طور قومی آفت قرار دیا جائے اور مغربی بنگال اور اڑیسہ کی مدد کی جائے۔میٹنگ میں کانگریس سمیت 22 اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران شامل ہوئے، اگرچہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اس میٹنگ سے دور رہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کارکنوں کے معاملے پر بنیادی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا،کچھ ریاستوں میں مزدور قوانین میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں پر بھی بحث ہوئی۔میٹنگ میں سونیا نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کے طریقہ کار کو لے کرپر یقین نہیں تھی۔اس کے پاس اس سے باہر نکلنے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج کا اعلان کرنے اور پھر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے پانچ دن تک اس کی تفصیلات رکھے جانے کے بعد یہ ایک ظالمانہ مذاق ثابت ہوا۔سونیا کے مطابق، ہم میں سے بہت سی ذہن رکھنے والی پارٹیاں مطالبہ کر چکی ہیں کہ غریبوں کے اکاؤنٹس میں رقم ڈالی جائیں، تمام خاندانوں کو مفت راشن دیا جائے اور گھر جانے والے مہاجر کارکنوں کو بس اور ٹرین کی سہولت دی جائے،ہم نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ملازمین اور آجروں کی حفاظت کے لئے ’تنخواہ امدادی فنڈ‘ بنایا جائے لیکن ہماری فریاد کو ان سنا کر دیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایاکہ حکومت نے اپنے جمہوری ہونے کا مظاہرہ کرنا بھی بند کر دیا ہے،ساری طاقتیں پی ایم او تک محدود ہو گئی ہیں،جمہوریت کی روح جو ہمارے آئین کا اٹوٹ حصہ ہے، اسے بھلا دیا گیا ہے،اس کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یا مستقل کمیٹیوں کی میٹنگ کب طلب کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل، غلام نبی آزاد، کے سی وینو گوپال، ملکا ارجن کھڑگے اور ادھیر رنجن چودھری، سابق وزیر اعظم اور جنتا دل (ایس) لیڈر ایچ ڈی دیوگوڑا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار اور پرفل پٹیل، ترنمول کانگریس سے ممتا بنر جی اور ڈیریک اوبرائن، شیوسینا سے ادھو ٹھاکرے اور سنجے راوت اور ڈی ایم سے ایم کے اسٹالن شامل ہوئے۔سی پی ایم کے سیتا رام یچوری، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ہیمنت سورین، سی پی آئی کے ڈی راجہ، لوک تانترک جنتا دل کے شرد یادو، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور منوج جھا، آر ایل ڈی کے جینت چودھری، رالوسپا کے اوپیندر کشواہا، اے آئی یوڈی ایف کے مولانابدرالدین اجمل،آئی یوایم ایل کے پی کے کنالکٹی، ہم کے جتن رام مانجھی، کیرل کانگریس (ایم) کے جوس کے منی، آرسی پی کے این کے پریم چدرن، سوابھمانی پارٹی کے راجو شیٹی، تمل ناڈو کی پارٹی وی سی کے کے تھول تھرماولن اور جی جے ایس کے کوڈندرم نے میٹنگ میں شرکت کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close