اہم خبریں

عدالت نے سی اے اے پر جامعہ میں ہوئے تشدد سے منسلک درخواست کی جلد سماعت کی عرضی پر مرکز سے جواب مانگا

نئی دہلی،22مئی(آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے نظر ثانی شہریت قانون (سی اے اے) کے خلاف گزشتہ سال دسمبر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئے تشدد کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن قائم کرنے کیلئے دائر درخواست کی مقرر تاریخ سے پہلے سماعت کرنے کی عرضی پر جمعہ کو مرکز سے جواب مانگا۔چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پرتیک جلان کی بنچ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کی۔بنچ نے حکومت اور دہلی پولیس کو اس عرضی پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور اسے پانچ جون کو سماعت کے لیے درج کر دیا۔

عرضی کے ذریعے درخواست کی سماعت مقررہ وقت سے پہلے کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔دراصل، عدالت نے اس کی سماعت جولائی کے لئے مقرر کی تھی۔یہ عرضی ایڈووکیٹ اور درخواست گزار نبیلہ حسن کی ایک زیر التواء درخواست میں دائر کی گئی ہے۔اس درخواست میں درخواست گزاروں، طلبہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں رہنے والے لوگوں پر ظالمانہ حملے کئے جانے اور پولیس اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس کے اندر طالب علموں پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کئے جانے کو لے کر پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایڈووکیٹ اسنیہامکھرجی کی معرفت دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 24 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگو کر رکھا ہے، جس دوران لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہے،اگرچہ یونیورسٹی کے بہت سے طالب علموں کو پولیس تھانے اور کرائم برانچ بلایا گیا۔اس میں کہا گیا ہے کہ طالب علموں کو پولیس کی تحقیقات کے بہانے وہاں گھنٹوں بٹھایا گیا اور ملک کی موجودہ صورت حال کے باوجود دہلی پولیس کے ہاتھوں طالب علموں کا تشدد نہیں رکا ہے۔اس سے پہلے، ہائی کورٹ نے مرکز، دہلی کی آپ حکومت اور پولیس کو نوٹس بھیجا تھا اور ان کا جواب مانگا تھا۔

اس کے علاوہ، وکلاء، جامعہ کے طلبہ، اوکھلا کے باشندوں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے میں واقع جامع مسجد کے امام نے بہت سی دوسری عرضیاں دائرکی ہیں۔انہوں نے طالب علموں کے لئے معاوضے اور مجرم پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close