اہم خبریں

دہلی ہائی کورٹ نے گوتم نولکھا کی عبوری ضمانت کی درخواست پر این آئی اے سے مانگا جواب

نئی دہلی،22مئی(آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے کورے گائوں۔بھیما تشددمعاملے میں شہری حقوق کارکن گوتم نولکھا کی عبوری ضمانت کی درخواست پر جمعہ کو این آئی اے سے جواب مانگا۔نولکھا (67) نے عرضی میں اس بنیاد پر عبوری ضمانت کی درخواست کی ہے کہ وہ عمر کے جس پڑاؤ پر ہیں، اس میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہے، خاص طور پر گنجائش سے زیادہ قیدیوں والی جیل میں یہ خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔جسٹس انوپ جے بھبھانی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے این آئی اے کو نوٹس جاری کر کے معاملے میں جواب مانگا۔اس معاملے میں عدالت نے مزید سماعت کے لئے 27 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔نولکھا نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے سامنے 14 اپریل کوسرینڈرکیا تھا،وہ اب تہاڑ جیل میں بند ہیں۔عدالت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے نولکھا کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس بنیاد پر گرفتاری سے تحفظ کی درخواست ٹھکرا چکا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کووڈ19 وبا کے دوران جیل جانے کا مطلب ایک قسم کی سزائے موت ہے ۔نولکھا نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں تہاڑ جیل میں بند ہیں جب پورا ملک کووڈ19 کے خطرے سے لڑ رہاہے۔ اس نے کہاکہ این آئی اے حراست کے دوران صفدر جنگ ہسپتال کے ڈاکٹر نے انہیں ہائی بلڈ پریشر ہونے کی بات بھی کہی تھی، جس سے ان کے بیمار ہونے کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے 16 مارچ کو نولکھا کو تین ہفتے کے اندر ہتھیار ڈالنے کی ہدایت دی تھی۔اس کے بعد آٹھ اپریل کو کورونا وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ سے سرینڈر کے لئے وقت مانگا تھا۔اس پر عدالت نے انہیں ایک ہفتے کے اندر سرینڈر کی ہدایت دی تھی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close