اہم خبریں

دعووں کی پول کھلی ،طبی عملہ کوتین ماہ سے تنخواہ نہیں،وزیراعظم کوخط لکھا

نئی دہلی17مئی(آئی این ایس انڈیا) موم بتی جلاکرکبھی ڈھول بجاکرکوروناکے درمیان خدمات پیش کرنے والوں کے استقبال کاہنگامہ توکیاجاتاہے۔باربارطبی عملے کے احترام،ان کے وقاراوران کے مفادات کی حفاظت کی باتیں کی جاتی ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ کیاڈھول بجانے سے ان کے پیٹ بھرجائیں گے،زبان پرکچھ اورعملی طورپرکچھ اورہورہاہے۔ریاستیں اورمرکزی حکومتیں لمبی لمبی بول توبول رہی ہیں لیکن ایک طرف بہارمیں 35000طبی عملے نے تنخواہ نہ ملنے کے سبب ہڑتال کی دھمکی دی تھی ،اب شمال مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے ماتحت طبی عملے، ڈاکٹروں ، نرسنگ کوتقریباََ 3 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں گھرچلانے میں بھی دشواری کا سامناکرناپڑرہا ہے۔
طبی عملے کارکن بہت پریشان ہیں۔ ایک طرف ، کرونا وائرس کے اس مشکل وقت میں ، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ، جبکہ حکومت ان کی تنخواہ ان تک پہنچانے میں بھی ناکام ہے۔اس دوران ، ڈاکٹر ماروتی سنہا نے کہاہے کہ ہمیں 3 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جس کی وجہ سے گھر چلانا بہت مشکل ہے۔ ہم اپنا ای ایم آئی ، بچوں کی اسکول کی فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں۔

ہم نے وزیر اعظم کوخط لکھاتھا لیکن ابھی تک ہمیں اپنے واجبات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوروناکے زمانے میں ، جہاں ہم دوسری طرف ، کسی اور یا اپنے اہل خانہ کے مریضوں کو علاج کرنے میں اپنی جانیں دے رہے ہیں،انھیں فکرنہیں ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close