ہندوستان اردو ٹائمز

بیٹیوں کو بچانے کے لیے سماج سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنا ضروری: مولانا محمد ولی رحمانی

احمد آباد کی عائشہ کی خودکشی کے واقعہ پرجنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہار غم

نئی دہلی یکم مارچ(آئی این ایس انڈیا) گجرات کے احمد آباد کی رہنے والی عائشہ عارف خان کی سسرال والوں کے برے سلوک اور جہیز کے مطالبہ سے تنگ آکر سابر متی ندی میں کود کر خود کشی کرلینے کے واقعہ پر سماج کے ہر طبقہ سے رنج اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے ، وہیں دوسری طرف سماج سے جہیز جیسی برائی کے خاتمہ کی بحث بھی تیز ہوئی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی دل دہلا دینے والا اور اندوہناک واقعہ ہے ۔اس دلدوز واقعہ کو ایک حادثہ کے طور پر دیکھنا چاہئے اور اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، اس طرح کے واقعات کسی بھی سماج کے لیے افسوس ناک ہیں اور سماج کو اس کی وجوہات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ اس واقعہ سے تمام لوگوں کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو سبق لینا چاہئے اورمعاشرے سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنا چاہئے ۔ جہیز کے لیے سسرال میں لڑکیوں کو پریشان کرنا بہت گھٹیا حرکت ہے ، سسرال میں بہوؤں کے ساتھ خوش اخلاقی کا معاملہ ہونا چاہئے، انہیں پریشان نہیں کرنا چاہئے ۔ جہیز کے نام پر ان کو تنگ کرنا، بار بار طعنے دینا ، میکہ سے روپیہ اور سامان لانے کا مطالبہ کرنا ، انہیں ذہنی ٹارچر کرنا اچھے لوگوں کا کام نہیں ہے ۔ شریعت میں جہیز لینا اور دینا دونوں حرام ہے ، لیکن لوگ اس کی پابندی نہیں کرتے ہیں ۔ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے مزید کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک اس سلسلہ میں چل رہی ہے ، اور تفہیم شریعت کمیٹی نے خاص طریقہ پر تمام صوبوں میں اجلاس کر کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے ۔ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس مسئلہ کی طرف توجہ دینی چاہئے اور اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اس تحریک کا ساتھ دینا چاہئے، ہر انسان اپنے گھر سے اس کی شروعات کرے اور یہ عزم کرے کہ نہ اپنی یا اپنے بچوں کی شادی میں جہیز لینا ہے اور نہ بچی کی شادی میں جہیز دینا ہے ، پورے معاشرہ سے جہیز کی بیماری ختم ہونی چاہئے تاکہ اس طرح لڑکیوں کو انتہائی اقدام کرنے کی نوبت نہ آئے اور معاشرے کے اندر کوئی نامناسب صورت حال پیش نہ آئے ۔ حضرت جنرل سکریٹری بورڈ نے آگے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تمام انسانوں خاص طور پر مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکیں اور یہ محسوس کریں کہ جس گھر میں لڑکا ہے اس گھر میں لڑکی بھی ہے ، اگر وہ اپنی بہو کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے۔ تو ان کی بیٹی کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا مظاہرہ ہو گا۔ آپ کے گھر میں جو بہو ہے وہ بھی کسی کی بیٹی ہے ، جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی کو کوئی تکلیف نہ دے تو آپ کو بھی چاہئے کہ جو بیٹی اپنا گھر بار چھوڑ کر آپ کے گھر آئی ہے ، اس کو اپنی بیٹی سمجھیں اور اپنے کسی عمل سے اس کو ذہنی یا جسمانی تکلیف نہ پہونچائیں۔ ہر آدمی جب اس کی عادت ڈالے گا تو کسی بیٹی کے ساتھ بھی برا سلوک نہیں ہوگا۔ سماج میں اور خاندان میں توازن قائم کرنے کے لیے اس طرح کی بری رسموں کا پوری طاقت کے ساتھ بائیکاٹ کرنا چاہئے۔جنرل سکریٹری بورڈ نے مزید کہاکہ جہاں تک خود کشی کا تعلق ہے تو ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جان اپنی امانت نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی امانت ہے ، اسے کسی طرح سے برباد نہیں کرنا چاہئے، اور اسلام نے کسی بھی حال میں خود کشی کی اجازت نہیں دی ہے، اسلام کی تعلیمات کا ہی یہ اثر ہے کہ مسلمانوں کے اندر خود کشی کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح جہیز کے لیے مار پیٹ کرنے ، جلا دینے، قتل کر دینے اورجہیز کی وجہ سے خود کشی کے واقعات مسلمانوں کے مقابلہ میں دوسرے مذہب کے ماننے والوں میں بہت زیادہ ہیں، لیکن ابھی اس معاملہ کو اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کیوں کہ یہ ایک مسلمان خاتون کا معاملہ ہے،اس کی پبلسٹی کر کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کے اندر خودکشی کے بہت واقعات ہیں،جوصحیح نہیں ہے ۔