دیوبند

اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کی گرفتاری کے لئے متحدہ مجلس عمل سہارنپور کی جانب سے ڈی ایم کو دیا گیا میمورنڈم

ملک میں ایسا قانون بنایا جائے کہ کوئی بھی کسی مذہبی عظیم شخصیت کی توہین نہ کر سکے

دیوبند، 8؍ جون (رضوان سلمانی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی محبت سب سے زیادہ ہے۔ تمام مسلمان اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور احترام کے لیے اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں۔’’گذشتہ کچھ برسوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ایک مہم شروع ہوچکی ہے جسکے تحت وقفے وقفے سے کچھ ایسی قابل مذمت اور افسوسناک حرکتیں کی جارہی ہیں جس سے مسلمانان عالم کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ جیسے مسلمانوں کے خلاف یہ ناپاک حرکتیں ایک منظم اور باقاعدہ سازش اور پروگرام کا حصہ ہوتی ہیں اور اپنا یہ خصوصی مقصد لئے ہوئے ہوتی ہیں کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح پریشان اور خوفزدہ کیا جائے اور ایک انتشار کی کیفیت پیدا کی جائے۔ حال ہی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک واقعہ پیش آیا جہاں بی جے پی کے ترجمان نپور شرما اور نوین کمار جندل کے توہین آمیز اور گستاخانہ بیانات کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑے پیمانہ پر برہمی پھیل گئی ہے۔ اسی سلسلے میں متحدہ مجلس عمل سہارنپور نے ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کیا ۔ جس میں مختلف مسلم جماعتوں و اداروں کی نمائندگی کے افراد شامل ہیں۔ جس میں بی جے پی کی ترجمان نپور شرما اور نیتا نوین کمار جندل کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض بیان پر احتجاج کر گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا،اسی طرح کانپور میں پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولس کی کاروائی پر سوال کھڑے کئے گئے۔

میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکار ان دونوں شرانگیزوں کو گرفتار کرے اور ملک میں ایسا قانون بنایا جائے کہ کوئی بھی کسی مذہبی عظیم شخصیت کی توہین نہ کر سکے۔اسی طرح میمورنڈم میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں امن و امان کے بقا کے لئے میڈیا و سوشل میڈیا پر نگرانی رکھی جائے تاکہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت نہ کرسکے۔ساتھ ہی ساتھ میمورنڈم میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ کانپور میں پر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد اور بربریت کو ختم کیا جائے اور پولیس غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرے، اسی طرح سرکار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پرامن احتجاج کرنے والے معصوم لوگوں کو قید سے رہائی کا پروانہ دے۔اس موقع پر قاضی ندیم اختر شہر قاضی سہارنپور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نپور شرما اور نوین کمار جندل کے پیغمبر محمد کی شان میں متنازع بیان نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچائی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے ملکوں میں برہمی پھیلی ہوئی ہے،یہ بیان اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے نفرت پر مبنی ہے جو بے حد افسوس ناک ہے، یہ ایک بڑا جرم ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،دنیا کا کوئی بھی مسلمان اس بات کو کبھی برداشت نہیں کریگا کہ اسکے پیغمبر اور مذہب کے خلاف کسی طرح کی کوئی گستاخی کی جائے،یہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے ایک سازش ہے اور کٹر پنتھی ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

شیر شاہ اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی انسانیت کے خلاف بڑا جرم ہے اور رسول اللہ کی شان میں توہین آمیز کلمات کہنے والے کی جگہ صرف جیل میں ہے، حالات کا تقاضہ ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف سزا کیلئے سخت قانون بنایا جائے تاکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا سلسلہ بند ہوسکے اور مسلمانوں کے دلی جذبات مجروح نہ ہوں۔میمورنڈم دینے والے اہم شرکاء میں مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی،ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارن پور،مولانا اطہر حقانی نائب ناظم دارالتدریب السلامی، مولانا فرید مظاہری،نائب صدر جمعیۃالعلماء ضلع سہارنپور، مولانا عزیزاللہ ندوی، ناظم ادارت الصدیق بہٹ، مولانا شاھد مظاھری،ناظم فلاح دارین، مولانا شمشیر الحسنی،رکن منتظمہ جمعیۃ علماء،مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ناظم جامعۃ الشیخ، حافظ اویس تقی،صدر جمعیۃ الحفاظ، حاجی ایم شاھد زبیری، قاری عبد الرحیم، قاری شمیم کاشفی، صدر جمعیۃ الانصار، مولانا فضیل، نائب ناظم اشاعت العلوم، مولانا حارث، سکریٹری اصلاح معاشرہ سوسائٹی، مولانا عبداللہ، نعیم پیرزادہ، قاضی سعد۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button