بنگلور

اکرم باشاہ مرحوم بے باک و ندر اور حق پسند افسر تھے : حاضرینِ نشست نے اظہارِ خیال کیا

بنگلور (ہندوستان اردو ٹائمز) کرناٹکا اردو پوئٹس ایسو سی یشن کی جانب سے بروز ہفتہ بتاریخ 2 جولائی 2022 بمقام الامین کمبل پوش اسکول، نزد کمبل پوش درگاہ، کرنل ہل روڈ، بنگلور میں تعزیتی نشست بنام مرحوم اکرم باشاہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ نشست کی صدارت جناب محمد عبید اللہ شریف ، چیرمین، انجمن ترقی اردو ہند شاخ کرناٹک و مدیر اعلیٰ روزنامہ پاسبان نے فرمائی۔ جناب اعجاز صاحب، جناب صدیق پاشاہ صاحب، جناب عباس شریف صاحب ، جناب مرزا عظمت اللہ صاحب ، جناب مبین منور- چیرمین ، کرناٹکا اردو پوئٹس ایسو سی یشن و سابق چیرمین، کرناٹک اردو اکادمی مہمانانِ خصوصی شریک رہے۔ ابتدائی نظامت سید عرفان اللہ ، پی آر او، کرناٹکا اردو پوئٹس ایسو سی یشن نے فرمائی ۔ نشست کی نظامت جناب شفیق عابدی نے بحسنِ خوبی سر انجام دی۔ مولانا مظفر صاحب کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے نشست کا آغاز ہوا۔ جناب مبین منور اور حافظ سید تبریز نے نعتؐ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مولانا مظفر صاحب نے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔ جناب محمد عبید اللہ شریف صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا ’’اکرم باشاہ جیسا ندر اور حق پرست افسر کی امتِ مسلمہ کو اشد ضرورت ہے۔‘‘

آپ نے مزید کہا کہ سرکاری ’’اقلیتی اداروں کے ذریعہ اکرم باشاہ نے فلاحی کام بہت کئے ہیں اور امید ہے یہ ان کے آخریت کا سامان ضرور ہوں گے‘‘ ۔ جناب اعجاز صاحب ، اسپیشل افسر، کرناٹکا اسٹیٹ حج کمیٹی نے اپنے خیلات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’ اکرم باشاہ ہمیشہ ہی اپنی صحت کا بہت خیال رکھتے تھے اور انہیں اسکواش اور گولف کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ اکرم ہمیشہ چست چوبند رہتے تھے اور دوسروں کو بھی صحت کے نسخہ بتاتے ‘‘۔ جناب مرزا عظمت اللہ، سابق رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے اکرم باشاہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ اکرم باشاہ بہت ملنسار اور ہنس مکھ مزاج شخصیت کے مالک تھے، میں نے کبھی انہیں پریشان اور اداس نہیں دیکھا یہ ان کی زندہ دلی کا ثبوت ہے‘‘۔ جناب مبین منور ، سابق چیرمین ، کرناٹک اردو اکادمی نے اپنے دورمیں رجسٹرار کے فرائض انجام دئے جناب اکرم باشاہ مرحوم کے تعلق سے بتایا کہ ’’ کوئی بھی چیرمین کتنے ہی عزائم کے ساتھ کیوں نہ آیا ہو اور اسکے کتنے ہی تعلقات کیوں نہ ہو بنا رجسٹرار کوئی چیرمین اکادمی کا کوئی پروگرام بالکل نہیں کر سکتا‘‘ مزید فرمایا کہ ’’میری معیاد میں جشنِ اردو ایک سنگِ میل ہے اور تاریخ میں جب جشنِ اردو کا تذکرہ آئے گا میرے نام سے قبل جناب اکرم باشاہ کا نام ضرور آئے گا۔ ایک ساتھ 65 کتابوں کی اشاعت کا اہتمام اور پھر دو مشاعرے اور تقسیمِ انعامات ان کے علاوہ اسکولی طلبہ کے ثقافتی پروگرام یعنی اردو کا صحیح مانوں میں ایک جشن یقینا اکرم باشاہ کے بنا غیر ممکن تھا۔‘‘

جناب صدیق پاشاہ ، جوائنٹ سیکریٹری برائے حکومت کامرس و انڈسٹریزڈپارٹمنٹ، حکومتِ کرناٹک نے اپنے دور میں اکرم باشاہ کے تعلق سے بتایا کہ ’’جب میں محکمۂ اقلیتی بہبود میں انڈر سکریٹری کے عہدہ پر فائز تھا اس وقت اکرم باشاہ سیکشن افسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اور جب میں ڈپٹی سکریٹری تھا اس وقت وہ انڈر سکریٹری کے طور پر محکمۂ اقلتی بہبودمیں بہت ہی محنت و لگن سے اپنے خدمات انجام دے رہے تھے۔ یقینا ہم نے ایک بہت ہی ایماندار اور غیرجانبدار افسر کھویا ہے ‘‘ یس۔ مرزا عظمت اللہ، ایڈینشنل کمیشنر آف کمرشیل ٹیکسس و سابق رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے کہا کہ ’’اکرم باشاہ صاحب جیسے افسر کبھی کبھی ہی امتِ مسلمہ کو نصیب ہوتے ہیں۔ آپ میں لیڈر شپ کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ مسئلہ کا حل بس منٹوں میں نکال لیتے۔ اقلیتی اسکیم کو نفاذ کرنے میں آپ کا بہت بڑا رول رہا۔ آپ جس ادارے میں بھی گئے وہاں اپنی چھاپ چھوڑ کر آئے۔ واقعی اکرم باشاہ صاحب صرف نام کے نہیں قول و فعل کے بھی باشاہ تھے۔‘‘جناب عباس شریف، ویمنس وقف کونسل، حکومتِ کرناٹک نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ ’’اکرم باشاہ بہت بے باک اور ندر افسر تھے۔

انہوں نے محکمۂ تعلیم اور محکمۂ اقلیتی بہبود حج و اوقاف میں بھی نمایاں کارکردگی ادا کی ہے جو قابلِ تعریف ہے۔ ‘‘ جناب اکرم باشاہ کے فرزند اکرم باشاہ صاحب کے اہلِ خانہ کے ساتھ اہلِ خاندان بھی اس نشست میں شامل تھے ۔ عاقیب اکرم فرزند اکرم باشاہ نے اپنے والد کے ساتھ بتائے لمحات و انکے بتائے ہوئے واقعات و تجربات کا کھل کر بیان کیا، کیسے اکرم صاحب اپنے گائوں کی ترقی کے لئے کوشاں تھے اور انہوں نے کس طرح اپنے آبائی وطن میں مسجد، مدرسہ، سڑکیں اور دیگر ضروریات کے اسباب فراہم کروائے ۔ ’’ابا کو کھیلنے کے علاوہ تیرنے کا بہت شوق تھا‘‘ آگے کہا کہ ’’ہمارے ابا کا بچپن بہت تکلیف دہ تھا دو وقت کی روتی بھی کبھی کبھی میسر نہ ہوتی تھی۔ شاید اسی لئے انہوں نے ہماری پرورش میں اپنے بچپن کو ذہن میں رکھ کر ہمیں ہر کام کرنے کی پوری آزادی دی۔ اور ہمیں فخر ہے کہ ہم جناب اکرم باشاہ کی اولادیں ہیں۔ ابا اکثر اپنے محکموں کی باتیں بھی ہم سے کرتے اور اپنے تجربات بانٹتے۔ ‘‘ جناب شفیق عابدی نے دورانِ نظامت اکرم باشاہ کے ساتھ انکے تجربات کا اظہار کیا اور انکی شخصیت پر بہت سی باتوں کو عیاں بھی کیا۔ ’’

اکرم صاحب کے انتقال سے کچھ دن قبل ہم حج بھون میں ملے تھے اور وہاں کافی لمبی گفتگو ہوئی تھی ‘‘ آگے شفیق صاحب نے فرمایا ’’اکرم صاحب کے دور میں ہم نے اکادمی کا بہت کام کیا تھا میں اس وقت بحیثیت رکن تھا اور ہمارے مبین منور صاحب چیرمین تھے۔ یہ حق ہے اگر اکرم صاحب رجسٹرار نہ ہوتے تو اکادمی قلیل وقت میں کئی پروگراموں کاانعقاد غیر ممکن تھا۔ یہ دور مبین منور اور اکرم باشاہ صاحب نے سنہرے لفظوں میں لکھ دیا ہے۔ ‘‘۔ نشست میں الحاج باباجی، ذبی اللہ ، دوردرشن ، شیخ حبیب، عزیز داغ کے علاوہ کئی معزز ادبی شخصیات شامل تھے۔ اردو میڈیا میں رئوف ہللور، ابراہیم نفیس- اونچی آواز، سہیل نیوز 16 اور دیگر احباب شامل تھے۔ سید عرفان اللہ نے شریک تمام مہمانان ، میڈیا، شامعین و آن لائن ناظرین کے علاوہ دیگر تمام کا شکریہ ادا کیا۔آخر میں جناب اعجاز صاحب، اسپیشل افسر، کرناٹک اسٹیٹ حج کمیٹی نے مرحوم کے حق میں دعا فرمائی۔ دعا کے بعد سید عرفان اللہ نے نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button