کالم

آن لائن ہوتی زندگی آف لائن ہوتے رشتے : سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ممبئی

کسی نے کیا خوب کہا ہےکہ گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ۔۔۔۔
سچ ہے کہ جو وقت گزر چکا سو گزر چکا۔ ہم گزرے ہوئے زمانے پر نظر دوڑاتے ہیں تو یاد آتا ہے کہ ایک وہ بھی وقت تھا جب کسی کے بھی گھروں میں نہ فون تھا ،نہ ٹی وی ، نہ اور کوئی الیکٹرانک چیز۔ کسی کسی کے گھر میں ریڈیو ہوا کرتا تھا اور ایکہ دوکہ کہ گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ۔ وقت گزارنے کا ذریعہ صرف کتابیں تھی یا پھر اِن ڈور یا آؤٹ ڈور گیم۔ ہر کام اپنے ہاتھوں سے کیا جاتا تھا اور سارے ہی کاموں میں خوب محنت ومشقت لگتی تھی۔ گھر کے سارے لوگوں کا ساتھ ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہونا ہوتا تھا۔ روٹھنا، منانا، گھر کے سارے بچوں کا ایک ساتھ سونا، ہنسی مذاق کرنا۔۔۔۔وہ بھی کیا دن تھے جب رشتوں میں پیار، محبت، خلوص، احساس ہوا کرتا تھا۔ گھر چھوٹے ہوتے تھے مگر دلوں میں جگہ ہوتی تھی۔ ایک گھر میں کئی بھائیوں کے خاندان رہتے تھے وہ بھی سب مل جل کر۔۔۔۔۔ بزرگوں کے ڈانٹنے پر کبھی کوئی برا نہیں مانتا تھا۔ غلطی ہو یا نہ ہو سر تسلیم خم ہوجاتا۔ یہ ایک تہذیب تھی جو صدیوں پر محیط تھی۔ تعلیم یافتہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ لوگ میلوں کا سفر کرکے ایک دوسرے سے ملنے آتے تھے، تب اتنے وسائل بھی نہیں تھے۔ وقت نے انسانی رشتوں کے احترام کو کم ہی متاثر کیا تھا۔
پھر زمانےنے کروٹ لی۔۔۔۔۔۔ یہ کروٹ بھی عجیب کروٹ ہے۔۔۔پہلے سماج میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد کم ہی رہتی تھی۔ پھر دھیرے دھیرے یہ تعداد بڑھنے لگی۔ پہلے لوگوں میں علم کم تھا اور عمل زیادہ تھا۔۔۔۔۔۔ آج سب کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں مگر عمل نہیں ہیں۔ زمانے کی ضروریات بدلیں تو لوگوں کی نظر اور نظریات بھی بدلتے چلےگئے ۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ حال ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ہی جگہ نہیں رہ گئی تو گھروں میں کیا ہوگی۔ پہلے کھانا بنایا جاتا تو دوچار مہمان بھی آجائیں تو کوئی فرق نہ پڑتا۔ اب چار لوگوں کا کھانا بنا ہے اور ایک مہمان آجائے تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ برکت بھی ختم ہوگی۔۔۔۔۔وہ اس لئے کہ پہلے لوگ مہمان کا آنا خوش نصیبی سمجھتے تھے۔ اب مہمان کا آنا بوجھ لگتا ہے۔ مہمان اپنی روزی خود ساتھ لے کر آتا ہے۔۔۔پر اب کون سمجھتا ہے۔
آج کے بچوں کو آوٹ ڈور گیم کھیلنا تو دور انہیں پتہ بھی نہیں ہے کہ آؤٹ ڈور گیم کون کون سے ہیں جو گلی محلوں میں کھیلے جاسکتے ہیں۔انہیں یہ سب پتہ ہےکہ موبائل پر کون کون سے گیم ہیں ۔ ہم اپنے بچوں کو انٹرنیٹ اور شوشل میڈیا سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ اسکول میں جب کسی طالب علم کے پاس موبائل ملتا تو ضبط کیا جاتا کہ اسکول میں موبائل لانا منع ہے ۔پر دیکھیں کہ اسکول ہی موبائل میں آگیا ہے۔ آج تین سال کا بچہ بھی آن لائن کلاس لے رہا۔ سب کچھ آن لائن ہوگیا۔بینک سے لے کر خریداری تک۔ یہاں تک کہ اگر آپ چائے بھی پیتے ہو تو آن لائن پےمینٹ۔ ساری دنیا آن لائن ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں بہت سارے لوگوں سے جوڑ دیا ہے۔ بہت ساری آسانیاں بھی ہوئی لیکن اس کا ایک نقصان دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی جتنی زیادہ آن لائن ہو رہی ہے، ہمارے رشتے اتنے ہی آف لائن ہوتے جارہے ہیں ۔ ہم اپنوں کے درمیان میں بیٹھ کر بھی ان لوگوں سے قریب ہونا پسند کرتے ہیں جن سے نہ کبھی ملاقات ہوئی ہے نا ملاقات ہونا ممکن ہے۔ موبائل کی غیر حقیقی یعنی ورچوئل دنیا میں داخل ہوکر ہم اپنے حقیقی رشتوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ پہلے ہم اپنے حقیقی رشتوں سے جڑے ہوئے تھے مگر آن لائن رشتوں کی وجہ سے آپسی اور حقیقی رشتے بکھرتے جا رہیں ہیں۔ رشتوں میں تلخیاں بڑھنے لگی ہیں۔ ہم جسمانی طور پر اپنوں کے ساتھ بیٹھے بھی ہو تو ذہنی طور پر ہم وہاں نہیں ہوتے کیونکہ ہماری نگاہیں موبائل اسکرین پر ہوتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی معاشرے کی اساس تعلق، رشتوں کے قیام پر ہے۔ لیکن ترقی کے اس دور میں نفسا نفسی بڑھ چکی ہے اور لوگ آپسی تعلقات کو بوجھ سمجھتے ہوئے اس سے فرار اختیار کر رہے ہیں۔ آن لائن ہوتی زندگی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور حقیقی رشتے آف لائن ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں موبائل فون کا استعمال اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ اسمارٹ فون استعمال کرنا ہم سب کی اولین ترجیح بن گئی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ انسان موجود تو کہیں ہوتا ہے لیکن اس کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے۔ نگاہ موبائل پر، ہونٹوں پر مسکراہٹ، کبھی اپنی تصویر پر ڈھیروں لائیکس دیکھ کر، تو کبھی بہت سارے کمینٹس پاکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سب کچھ حاصل کر لیا ہو۔ سوشل میڈیا نے ہمیں بہت سے جانے انجانے لوگوں سے آسانی سے جوڑ تو دیا ہے لیکن اپنوں سے دور کر دیا ہے۔ ہماری زندگی جتنی آن لائن ہو رہی ہے ہمارے رشتے اتنے ہی آف لائن ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہم نئے نئے لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ ان کی پسند ناپسند، ان کی ذاتی زندگی سے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور سامنے والے بھی اتنی ہی دلچسپی لیتے ہیں جس سے ہم خود کو خاص محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سب بے حد اچھا لگتا ہے کیونکہ روز کچھ نہ کچھ نیا ہو رہا ہوتا ہے۔ ہمیں روز دوسروں کے بارے میں نئی باتیں جاننے کو ملتی ہیں۔لیکن افسوس ہم اپنے گھر والوں کی پسند اور ناپسند جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔
موجودہ وقت میں انسانوں نے آن لائن رشتوں کو اولیت دے دی ہے۔ پورے گھر کے لوگ جمع ہوں تو سب موبائل میں خاموشی سے لگے رہتے ہیں۔ ان آن لائن رشتوں پر جو اَن دیکھے ہیں ،عارضی ہیں اور ناپائیدار ہیں اور جن سے متعلق ہماری کوئی جوابدہی بھی نہیں ہے، ہم حقیقی رشتوں کو بھولتے جارہے ہیں جنھیں اب آف لائن رشتے کہا جاتا ہے۔ جو ہمارے آس پاس ہوتے ہیں۔ جنہیں ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ان رشتوں سے متعلق ہماری جوابدہی بھی ہے۔سوچیے اگر ماں نے آن لائن رہتے ہوئے بچوں پر دھیان کم کردیا تو یہ اس کا زندگی کا سب سے بڑا نقصان ہے اور اس کے برے اثرات اولاد پر تاحیات قائم رہیں گے۔ بزرگوں کا لحاظ ،اپنوں سے محبت ، ان کی عزت، ان کا کہنا ماننا، ان کا خیال رکھنا کبھی ہمارا وصف اور امتیاز ہوتا تھا مگر آج کے اس مشینی دور میں یہ سب ایک خواب بن کر رہ گیا۔ یا اسے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اب ہمارا یہ کام بھی غیروں نے سنبھال لیا ہے۔ پہلے دور میں برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھک بنی ہوتی تھی۔ وہاں بڑے بزرگ جمع رہتے تھے۔ وہاں سبھی کے مسائل کا حل نکالتے ہوئے اہم فیصلے کرلیے جاتےتھے۔ آج ترقی کے اس دور نے اس برگد کے درخت کو کاٹ کر رشتوں کا تقدس، پیار، احساس، مروت اور دلوں کی مٹھاس کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ دلوں میں فاصلے ہوگئے ہیں ۔ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے لوگ اجنبی بن گئے ہیں۔ کبھی تو ہزاروں میل کے فاصلے بھی کچھ نہیں ہوتے تھے۔آج ایک دوسرے کے پاس ہو کر بھی ہزاروں میل دور ہوگئے ہیں۔ غم ہو یا خوشی بس موبائل پر میسج کر دیا مطلب ذمے داری پوری ہوگئی۔
ہم اپنے خونی رشتوں سے دور ہو کر موج مستی میں جوانی تو گزار سکتے ہیں مگر بڑھاپا نہیں۔۔۔۔۔۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا کو ایک کلک کا مرہون منت کردیا گیاہے ۔آج ہم بھری محفل میں بھی تنہا بیٹھ کر آن لائن ہوتے ہیں۔ فیس بک ،ٹوئیٹر ،انسٹا گرام اور دیگر ویب سائٹس پر موجود لاکھوں لوگوں کو اپنے حلقہ ٔاحباب میں شامل کر لیا ہےجب کہ اصل زندگی اس کے بر عکس ہے ۔ حقیقی زندگی میں اب ہمیں زندگی کی خوب صورتی کا احساس نہیں رہ گیا ہے ۔ہمیں اس دور میں اپنے آپ کو پرکھنے اور جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ ایک دوسرے سے محبت سے پیش آئیں۔ لیکن ہم نے توپیار ،محبت ،مروت ،لحاظ اور تقدس کو پیچھے کہیں چھوڑ دیا ہے!!!!
تعلق اور رشتے صرف عزت و توجہ اور اہمیت کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی جتنی قدر و منزلت کی جائے اتنے ہی وہ گہرے اور مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن ہم سب اپنی زندگی کے مسائل ، مصائب اور آن لائن میں الجھ کر اپنے ان رشتوں اور اہم خونی رشتوں کی خدمت سے بھی محروم ہوتےجا رہے ہیں۔ اس خدمت کا قرض اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں پھر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ ہماری پوری زندگی آن لائن ہوگئی ہے اور ہمارے رشتے آف لائن ہوگئے ہیں۔سوچیں !!!!! نفسا نفسی کے اس دور میں ہم کہیں بہت دور تو نہیں نکل گئے؟؟؟ رشتوں کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور تو نہیں کردیا ؟ سوچئے گا ضرور؟؟؟

سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ممبئی
ایڈیٹر رسالہ غزلوں کا سفر
ایڈیٹر، گوشہ خواتین و اطفال، اسٹار نیوز ٹو ڈے۔
ایڈیٹر، گوشہ خواتین و اطفال، ہندوستان اردو ٹائمز ۔
ایڈیٹر ،گوشہ خواتین و اطفال ،نوائے ملت۔
9870971871

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close