آسام

آسام میں این آر سی کا کام نامکمل ، ہندوؤں کے لیے ’انصاف‘ کی ضرورت :ہیمنت بسوا

گوہاٹی25دسمبر(آئی این ایس انڈیا) آسام میں بی جے پی کاانتخابی ایجنڈہ رہاہے کہ وہاں دراندازہیں ،انھیں باہرکرناچاہیے۔لیکن سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوئی این آرسی بی جے پی پربھاری پڑگئی ہے۔مذہبی سیاست کرنے والی پارٹی کے لیے مشکل یہ ہوگئی ہے کہ اس این آرسی سے انیس لاکھ لوگوں کانام باہرہوگیاہے جس کے بعدبی جے پی پردبائوہے کہ وہ ان ’مبینہ دراندازوں‘ کوباہرکرے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ تقریباََتیرہ لاکھ ان میں ہندوہیں۔اس پربی جے پی کی بولتی بندہے کیوں کہ اب انھیں وہ دراندازنہیں بول سکتی۔جیسے بنگال میں اسے موضوع بنارہی ہے۔اورحیدرآبادمیں اس پرالیکشن لڑچکی ہے۔اس خفت کے بعدبی جے پی نے آسام این آرسی پرسوال اٹھاناشروع کردیاہے اوراین آرسی کامطالبہ کرنے والے ہی اب اسے مشکوک اورغلط بتارہے ہیں۔فہرست عام ہونے کے بعدہی آرایس ایس کی پریشانی بڑھ گئی ہے اورہندوووٹوں کی سیاست کرنے والوں کے پاس اسے مشکوک بتانے کے علاوہ اورکوئی راستہ بھی نہیں ہے۔اسی لیے پہلے سی اے اے لایاگیاتاکہ ہندووئوں کومذہب کی بنیادپرشہریت دے دی جائے۔امت شاہ نے یہی کورونالوجی بھی سمجھائی ہوئی ہے۔کیوں کہ اصل نشانہ کوئی اورتھا،لیکن تیرکہیں اورلگ گیا،سمجھاجاتاہے کہ اس تیرسے بچانے کے لیے سی اے اے لایاگیاہے۔ورنہ ڈاکیومنٹ میں کمی ہونے کی وجہ سے اگراین آرسی ہوئی توبڑی تعدادبرادران وطن کی بھی متاثرہوگی۔آسام حکومت کے وزیر ہیمنت بِسوا سرما نے دعویٰ کیاہے کہ ریاست میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کا کام ابھی تک نامکمل ہے اور خطے میں بسنے والے ہندوؤں کے ساتھ ’انصاف‘ کرنے کی ضرورت ہے۔این آرسی کو شمال مشرق میں بی جے پی کے لیے ایک پریشانی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہے این آر سی کا کام مکمل نہیں ہوسکا۔ہیمنت بسوانے ضلع کریم گنج میں ایک اجلاس میں کہاہے کہ ہم نے ہاںکے ہندوؤں سے انصاف کا وعدہ کیا ہے۔ وباکی وجہ سے این آر سی ابھی تک نامکمل ہے۔ ہم نے تقریباََ90 فیصد کام کیاہے۔ہمیں ہندوؤں کو انصاف دلانے کے لیے کچھ اورکام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ما ہ بھارتی پر یقین رکھنے والے ہزاروں افراد اب بھی حراستی کیمپ میں گھوم رہے ہیں۔آسام این آرسی کی حتمی فہرست گذشتہ سال اگست میں شائع ہوئی تھی۔ تقریباََ 3.3 کروڑ درخواست دہندگان میں سے 19.22 لاکھ افراد کو اس فہرست سے خارج کردیا گیا۔ اس فہرست پر بی جے پی نے تنقید کی تھی اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ بہت سے حقیقی شہری ، خاص طور پر مہاجرین جو 1971 سے پہلے بنگلہ دیش سے آئے تھے ، کو خارج کردیاگیاہے۔این آر سی کی فہرست جاری ہونے کے بعد ، بی جے پی فائر برینڈ کے ایم ایل اے دیونے این ڈی ٹی وی کے ساتھ گفتگومیں الزام لگایاکہ این آر سی ہندوؤں کو بھگانے اور مسلمانوں کی مددکرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close