دہلی

اودے پورقتل سانحہ : ملک کے 20 کروڑ مسلمان کنہیا لال کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں : مفتی مکرم

نئی دہلی ،29جون (ہندوستان اردو ٹائمز) اودے پور قتل سانحہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،یہ اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کے لیے رسوائی ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم اور قرآن کی روشنی کے خلاف ہے، اسی کو سفاکی کہتے ہیں ۔میں اس قتل کی مذمت کرتا ہوں اور مقتول کے خاندان کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ ملک کے بیس کروڑ مسلمان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان خیالات کا اظہار دہلی کی فتح پوری مسجد کے امام مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے کیا۔

دراصل اودے پور میں نوپور شرما کے حامی ایک درزی کے قتل کے واقعہ سے صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔ مسلمانوں کے ہر طبقہ نے اس کی مذمت کی ہے اور اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ ایسے عمل کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مفتی مکرم نے کہا کہ اسلام میں تشددکی کوئی جگہ نہیں ہے ۔اس کا مذہب سے کوئی سروکار نہیں،کسی کو اس طرح قتل کردینا انسانی فعل نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کا ماحول دیکھیں اور اس عمل کو دیکھیں۔ایک ایسے وقت جب اسلام اور مسلمان دونوں نشانہ پر ہیں اور دنیا بھر میں بدنام کئے جارہے ہیں،اگر کوئی یہ حرکت کرے تو اس کو کسی کا ہمدرد نہیں مانا جاسکتا ہے۔

مولانا مفتی مکرم نے کہا کہ ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ قران اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی تعلیمات کیا ہیں ہمیں ان تعلیمات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ہم جب تک اپنے عمل سے بتائیں گے نہیں کہ اسلام کیا ہے کوئی کیسے سمجھے گا کہ مذہب میں انسانیت کو کیا درجہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ قاتل پکڑے گئے ورنہ ایک بڑی مصیبت پیدا ہوجاتی۔ انہیں اس جرم کے لیے قانونی طور پر سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بن سکیں۔ مفتی مکرم نے ان حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بڑے لیڈران کو غور کرنا چاہیے کہ ملک کس جانب جا رہا ہے۔ ملک میں لنچنگ کامزاج کیسے اور کیوں بنا۔ ہمیں ملک کی روایات کا خیال رکھنا چاہیے ۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button