دربھنگہ

انتخاب امیرکی تاریخ کااعلان شوریٰ کافیصلہ نہیں : رکن شوریٰ مفتی توحیدمظاہری

اراکین شوریٰ کے نام پرپانچ لوگوں کوفیصلہ لینے کاحق نہیں،میٹنگ غیرآئینی ،امارت شرعیہ فوراً شوری کی میٹنگ بلائے

دربھنگہ16ستمبر (ہندوستان اردو ٹائمز) امارت شرعیہ کے شوریٰ کے معززرکن مفتی توحیدمظاہری نے بیان جاری کرتے ہوئے انتخاب امیرپرچندلوگوں کے فیصلے کوغیردستوری بتایاہے۔انہوں نے اس سلسلے میں امارت شرعیہ سے وضاحت طلب کی ہے کہ پراسرارطورپرذمے داران کاخاموش رہناامارت شرعیہ کوکمزورکرنے کی سازش کاحصہ ہے۔مفتی توحیدمظاہری نے اخبارکوجاری بیان میں کہاکہ وہ فیصلہ شوریٰ کانہیں ہے۔شوریٰ کے فیصلے کامطلب ہرشخص یہی سمجھ سکتاہے کہ تمام اراکین کواطلاع دی جائے پھرکسی نتیجے پرپہونچاجائے۔یہاں توہم جیسے کئی درجن اراکین کواطلاع تک نہیں دی گئی اورپانچ سات اراکین نے کمرے میں بندہوکرفیصلہ لے لیا۔جمہوری طریقوں کایہ مطلب ہرگزنہیں ہے۔ آخرامارت کی انتظامیہ اورنائب امیرشریعت اتنے کمزورکیوں ہیں کہ اس غیرآئینی میٹنگ اوراس کے فیصلے کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے۔

امارت شرعیہ فوری طورپرشوری بلائے۔نائب امیرکسی بھی فریق کے دبائوسے باہرنکل کرآزادانہ فیصلہ لیں۔انہو ںنے یہ بھی سوال کیاکہ جب شوریٰ کی میٹنگ جس میں اچھل کودمچانے والے یہ اراکین بھی تھے،اسی میٹنگ میں دستورمیں درج تین ماہ کے وقت کی توسیع کردی گئی تھی۔تواب یہ معاملہ شوریٰ کے ہاتھ میں جانے کی بات بالکل غلط ہے ۔انہوں نے سوال کیاکہ اگراسی طرح دیگراراکین بھی کوئی تجویزمنظورکرلیں توکیاہوگا،کیاذمے داران امارت ڈیڑھ اینٹ کی مسجدبنانے کی سمت گامزن ہیںاورلوگوں کااس کاموقعہ دے رہے ہیں۔امارت شوریٰ کی قدردانی کااعتراف توکرتی ہے لیکن اراکین کابائیکاٹ کرکے چندلوگوں کے فیصلے پرخاموش ہے۔یہ انتہائی شرمناک ہے۔

انہو ں نے یہ بھی کہاکہ نائب امیراورامارت شرعیہ کوعوام کوقائم مقام ناظم کے مسئلے پربھی مطمئن کرناچاہیے جن کے خلاف سنگین الزام ہیں اوروہ عدالتی کارروائی کاسامناکررہے ہیں۔انصاف کاتقاضہ تویہی ہے کہ انہیں فوری طورپرمعطل کرکے جانچ بیٹھائی جائے کیوں کہ عہدہ پررہتے ہوئے منصفانہ جانچ نہیں ہوسکتی۔عوام کافی بدظن ہورہی ہے اورلوگوں میں اچھامیسج نہیں جارہاہے۔اس سے امارت کاوقارمتاثرہوگا۔بہارکے مختلف علاقوں سے امارت کے بائیکاٹ کی صداآرہی ہے۔جھارکھنڈمیں بھی بائیکاٹ اورعدم تعاون کااعلان کردیاگیاہے۔امارت شرعیہ کارروائی کرکے اپنے وقارکوبحال کرے اورحالیہ دنوں میںاپنی کارکردگی پرنظرثانی کرے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close