بہار و سیمانچل

الحاج غلام سرور اردو کے مسیحا تھے: امان ذخیروی

اردو بیداری کمیٹی لکھی سرائے نے منایا الحاج غلام سرور ہا یوم پیدائش

لکھی سرائے (محمد سلطان اختر) 10 جنوری. بزم تعمیر ادب ذخیرہ جموئی کے جنرل سکریٹری امان ذخیروی نے اطلاع دی ہے کہ لکھی سرائے اردو بیداری کمیٹی نے جناب فیاض صاحب کی صدارت, ماسٹر محمد حسیب الرحمن صاحب کی نیابت اور جناب انور حران صاحب کی نقابت میں الحاج غلام سرور مرحوم کے یوم پیدائش کو یوم اردو کی شکل میں منایا. اس یادگاری تقریب میں بہت سارے محبان اردو نے حصہ لیا. ان میں خصوصیت کے ساتھ لکھی سرائے ضلع کے چیرمین جناب روی رنجن کمار سنگھ, لکھی سرائے ضلع پرائمری اساتذہ یونین کے صدر جناب مندر جھا جناب اروند کمار بھارتی لکھی سرائے ضلع سکینڈری ٹیچرس ایسوسیشن کے نائب صدر, ضلع امپلائمنٹ آفیسر جناب دنیش کمار تواری صاحب, خوش فکر شاعر جناب سید اسرافیل شیرقندوی صاحب, جناب محمد فخر الدین صاحب, جناب محمد عرفان صاحب مکھیہ کھگول, جناب عباس صاحب سابق ضلع پریشد رکن وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں. اس تقریب کو بہت سارے اہل علم حضرات نے خطاب کیا.

بزم تعمیر ادب ذخیرہ جموئی کے جنرل سکریٹری اور معروف شاعر امان ذخیروی نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الحاج غلام سرور کو اردو کا مسیحا بتایا. جناب ذخیروی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جناب غلام سرور مرحوم کی پیدائش 10 جنوری 1926 ء کو بیگوسرائے میں پیدا ہوئے. وہ ایک معزز تعلیم یافتہ گھرانے کے چشم و چراغ تھے. ان کے والد اعلیٰ عہدے پر فائز تھے. غلام سرور بیک وقت اردو کے خوش فکر ادیب, ایک پر جوش مقرر, ایک منفر صحافی اور عظیم سیاستداں تھے. اردو زبان کو اس کا جائز حق دلانے, اور اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں غلام سرور مرحوم کی خدماتات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے. چنانچہ ان کی اور ان کے رفقاء کی مسلسل 30 سالوں کی محنت سے 1981ء میں اردو کے کچھ اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملا. ان کا سنگم اخبار اردو کے لئے ہمیشہ وقف رہا. ہر چند کہ غلام سرور نے اردو کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی , ادب کی خدمت کا جذبہ بھی تھا.

انہوں نے تنقیدی مضامین بھی لکھے جو کتابی شکل میں بعنوان ” پرکھ” اور” مقالات غلام سرور” موجود ہیں. اگر وہ چاہتے تو اردو کے پروفیسر کی حیثیت اپنی زندگی کا آغاز کر سکتے تھے. مگر انہوں نے صحافت کی خاردار راہ کو چنا اور اسی راستے سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا اور وزیر تعلیم, بہار قانون ساز کانسل کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے. انہوں نے تا دم حیات اردو کی خدمت کی. ہمیں چاہئیے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چل کر اردو کو اس کا جائز حق دلانے کی کوشش جاری رکھیں. بزم کے صدر کی اختتامی تقریر سے اس تقریب کا اختتام عمل میں آیا.

Tags

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ کاخیرمقدم ہے، اپنے مضامین ومقالات،ادب و کالم اور خبریں ہمیں نیچے دیئے گئے میل پر ارسال فرماکر ممنون ہوں info@hindustanurdutimes.com

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

adana escort adıyaman escort afyon escort ağrı escort aksaray escort amasya escort ankara escort antalya escort ardahan escort artvin escort aydın escort balıkesir escort bartın escort batman escort bayburt escort bilecik escort bingöl escort bitlis escort bolu escort burdur escort bursa escort çanakkale escort çankırı escort çorum escort denizli escort diyarbakır escort düzce escort edirne escort elazığ escort erzincan escort erzurum escort eskişehir escort gaziantep escort gebze escort giresun escort gümüşhane escort hakkari escort hatay escort ığdır escort ısparta escort istanbul escort izmir escort izmit escort kahramanmaraş escort karabük escort karaman escort kars escort kastamonu escort kayseri escort kilis escort kırıkkale escort kırklareli escort kırşehir escort kocaeli escort konya escort kütahya escort malatya escort manisa escort mardin escort mersin escort muğla escort muş escort nevşehir escort niğde escort ordu escort osmaniye escort rize escort sakarya escort samsun escort şanlıurfa escort siirt escort sinop escort şırnak escort sivas escort tekirdağ escort tokat escort trabzon escort tunceli escort uşak escort van escort yalova escort yozgat escort zonguldak escort