بنگلور

اقلیتوں پرحملوں کااہم مقصد ملک میں منوواد کے ایجنڈہ کو لاگو کرناہے،بنگلور میں منعقدہ اے پی سی آر ورکشاپ میں معروف جہد کار رام پنیانی کا انکشاف

بینگلور 21 جون (ہندوستان اردو ٹائمز) بینگلور میں منعقدہ اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) کے یک روزہ لیگل ورکشاپ میں ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے اے پی سی آر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے معروف تاریخ داں ا ورسماجی جہدکارڈاکٹر رام پنیانی نے کہا کہ مذہب کےنام پر سیاست کرنے والی پارٹی کبھی اقتدار پر نہیں آنی چاہئے ، اس کے لئے تمام لوگوں کو مل جل کر کوشش کرنی چاہئے، انہوں نے رائٹ ونگ کی سیاست کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنانے کا اصل مقصد ملک میں منو واد کے ایجنڈہ کو لاگو کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمان جتنا خطرہ محسوس کررہے ہیں، اتنا ہی خطرہ ہم جیسے سیکولر اور جمہوری اقدار کے ماننے والے لوگ بھی محسوس کررہے ہیں۔

اس موقع پر دہلی سے تشریف فرما اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ ہر واردات اور واقعے کا ڈوکومنٹس تیار کرنے کی طرف توجہ دیں۔ مختلف اضلاع سے آئے 150 سے زائد کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنان سے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والے واقعات کو قلمبند کرے اور اپنے ریاستی اے پی سی آر دفتر میں روانہ کریں۔

کارکنان کو معلومات فراہم کرتے ہوئے نیشنل سکریٹری نے بتایا کہ اے پی سی آر کی طرف سے کالے قانون یواے پی اے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، عدالتی احتساب پر کام ہورہاہے۔ اے پی سی آر کی طرف سے نفرتی بھاشنوں کا ڈوکومینٹ تیار کیا جارہا ہے۔ جیل کا ریفارم بھی بڑا کام ہے۔ ندیم خان نے بتایا کہ آسام میں جب 19 لاکھ 66 ہزار لوگوں کو شہریت سے باہر کیا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ وہ اپنی شہریت ثابت کریں تو اے پی سی آر نے آسام میں مسلسل تین مہینوں تک کام کرکے دس لاکھ مسلمانوں کے ڈوکومینٹس تیار کروائے۔ انہوں نے اے پی سی آر کے ذریعے انجام دی جانے والی اس طرح کی کئی دیگر سرگرمیوں سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ اے پی سی آر کو ایسے بہت سارے کام کرنے ہیں۔

انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ ہال، بنگلور میں منعقدہ ورکشاپ کے پہلے سیشن کا آغاز حسن مجاہد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اے پی سی آر، کرناٹک چاپٹر کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ محمد نیاز نے تمام مہمانوں اور کارکنوں کا استقبال کیا، اے پی سی آر کے نیشنل نائب صدر اور کرناٹک چاپٹر کے صدر ایڈوکیٹ پی عثمان نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ملک میں ہونے والے حالات بالخصوص اقلیتوں پر ڈھائے جانے والےظلم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مختلف اضلاع سے آئے ہوئے اے پی سی آر کے کئی ایک کارکنان نے اپنے علاقہ میں انجام دی گئی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ اے پی سی آر کے ریاستی کو۔آرڈی نیٹر شیخ شفیع احمد نے ریاستی اے پی سی آر کے ذریعے انجام دی گئی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔اس درمیان کارکنان کے ساتھ ایک اوپن سیشن بھی رکھا گیا تھا جس میں کئی ایک نے سوالات کئے اور کئی ایک نے مفید مشوروں سے بھی نوازا۔

اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے اے پی سی آر کرناٹک چاپٹر کے سرپرست مولانا محمد یوسف کنّی نے کارکنان کو ہدایت دی کہ اے پی سی آر کے لئے جو دائرہ متعین کیا گیا ہے، کارکنان کو اُسی دائرے کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کارکنان کو اپنے اپنے ضلع میں ایسے لوگوں کو تلاش کرنے کہا جو حقوق انسانی کے لئے اور حق اور انصاف کے لئے کام کرنے پر آمادہ ہوں۔مولانا نے ڈسٹرکٹ ٹیم کے کارکنان کو کئی مفید مشوروں سے نوازتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی پر ظلم ہورہا ہو تو اُس کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔

دوپہر کی ضیافت کے بعد دوسرے سیشن میں فورم فور ڈیموکریسی اینڈ نیشنل امیٹی کے نیشنل جنرل سکریٹری پروفیسر سلیم انجینر نے نفرت کی سیاست اور ہماری جمہوریت پر خطاب کیا۔جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے صدر ڈاکٹر سعد بیلگامی اوراے پی سی آر کے نیشنل جنرل سکریٹری ملک معتصم نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اے پی سی آر بنگلور کے صدر ایڈوکیٹ امین احسان نے آخر میں شکریہ ادا کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button