مضامین

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر : نشاط اختر

نشاط اختر
(کٹیہار، بہار)

مکرمی! آج کے اس ڈیجیٹل نامی دنیا میں تاریکیوں نے حکمرانی قائم کرلی ہے۔ وہیں وطن عزیز موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی تاریخ کی انتہائی سیاہ دور سے گزر رہی ہے، ہر طرف نفرتوں،عصیبتوں نے اپنا ڈیرا جما لیا ہے- آپسی بھید بھاؤ، تناؤ کا رواج عام ہوچکا ہے-دھرم کے نام پر ہونے والے تنازع کی وجہ سے ملک کی امنی فضاگرد آلود ہوتی جارہی ہے۔ چونکہ اب استبدادی اقتدار قانون پر حاوی ہوچکی ہے-ملکی آئین کی گردن مروڑ دی گئی ہے۔ گزشتہ چند عرصوں سے محور اقتدار انتہا پسند اور فرقہ پرست لوگوں کے ہاتھوں میں جانے کے بعد مسلم اقلیت نشانے کی زد پہ ہے جس کے تناظر میں امت مسلمہ مختلف النوع المناک صورتحال حال سے دوچار ہوتی جارہی ہے۔ یقین مانیے ان حالات سے نبرد آزما ہونا ناممکن سا لگنے لگا ہے۔

معزز قارئین! بلاشبہ ہم آزمائش کے ایام سے گزر رہے ہیں۔ ہماری قوم کے یہ تباہ کن حالات گہار لگا کر ہمیں وقت کے تقاضے کے مطابق ذمہ داریاں یاد دلا رہے ہیں۔ آپ یقین جانیں ان اندوہناک حالات کا مقابلہ اور ان مفاسد کا سدباب عملی کردار سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ قوم و ملت کی بازیافت ہماری ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ہی ہوسکتا ہے۔ ہمیں اپنی غلط ترجیحات کی دنیا بدلنی ہوگی۔ خود کو تعلیمات اسلام و سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مزین کرکے وقت کے تقاضے کے مطابق قدم کو آگے بڑھانا ہوگا۔

میرے احباب! آج مختلف چیلینجز ہمارے سامنے ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جس قوم کے افراد تعلیم کے میدان میں پیش پیش رہنے والے ہوں اس قوم کو کوئی مخالف ہوا نہیں چھو سکتی اس لۓ کہ تعلیم کے ذریعے ہی افراد قوم ہر میدان میں جاسکتے ہیں اور جب تک ہر میدان میں ہمارے افراد نہ ہوں گے تو حق و انصاف کی راہیں کیونکر ہموار ہوں گی؟ قوم و ملت کی بازیافت کیسے ہوگی؟

اسباب و علل سے بھرے اس زمانے میں اس کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار نہیں کۓ تو چیلینجز کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
آج ضرورت ہے کہ افراد ملت افتراق و انتشار کی زنجیروں کو توڑ کر اتحاد و اتفاق کی صفوں میں کھڑے ہوں، اپنی تعلیم گاہوں کو مضبوط کیا جائے۔ ہر کام منظم و منقح انداز میں کیا جاۓ- ملکی سطح پر ہماری نظر کافی گہری ہو۔ اسلامی تعلیمات اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پہ خوب سے خوب گفتگو کی جائے اور اسے ہر طریقے اور زاویےسے عام کیا جاۓ، اربابِ حل و عقد مکمل منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کرکے عوام کو اس پر گامزن رہنے کی تلقین کریں، فکر و تدبر سے لیس قائدین حضرات ہر موڑ پر امت کی صحیح رہنمائی کریں، اور عوام کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔
آج ہم میں سے ہر ایک خواہ کسی درجے کا ہو باعتبار فرد ملت ایک ذمہ دار کی حیثیت رکھتا ہے لہذا ایک ذمہ دار فرد کےلیے یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ فقط جذبات اور شور و غل کو اپنا شیوہ بنا لے اور خود پر لازم ذمہ داریوں سے کنارہ کش رہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں کا ہر فرد ملت کی ارتقا کے لیے مکمل طور پر میدان عمل میں اتر پڑےتب ہی ہم فلاح و بہبود سے ہمکنار ہو سکتے ہیں :

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button