مضامین

اعمال صالحہ کا موسم بہار رمضان المبارک : حافظ محمدامتیازرحمانی

حافظ محمدامتیازرحمانی
خانقاہ رحمانی ،مونگیر

ایمان اور اعمال صالحہ کا موسم بہار یعنی رمضان المبارک آگیا جس طرح قانون قدرت کے مطابق سال میںایک بار درخت اپنا لباس بدلتے ہیں سوکھی پتیاں شاخوں سے جدا کردی جاتی ہیں اور پھر ان کو نئی کونپلیں اور پتیاں عطا کی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ویران اور اجاڑ سا نظر آنے والا درخت ایک نئی قوت اور جوش کے ساتھ تازگی اور شادابی کا پیغام دینے لگتاہے اس طرح سال کے گیارہ مہینے دنیا کی آرائشوں اور آلود گیوں کے درمیان گزارنے کے بعد بارہویں مہینے میں رمضان کا مہینہ آتاہے تو گناہ و معصیت کی سوکھی ہوئی پتیاں جھڑ جاتی ہیں اور مہینے بھر روزے رکھنے کے بعد تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی نیز عجز وانکساری کے ساتھ اس کے احکام کے آگے جھک جانے سے ا یمان کا مرجھایا درخت ایک بار پھر سرسبزوشاداب ہوکر لہلہانے لگتاہے فرمایاگیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری بھوک اور پیاس مطلوب نہیں ہے وہ تم سے تقویٰ چاہتاہے ۔اور یہ تقویٰ کیا ہے ، اس کو یوں سمجھئے کہ جیسے خار دار راہوں میں آدمی اپنے دامن کو سمیٹے کانٹوں سے بچ بچ کر نکلتاہے اسی طرح روز مرہ زندگی میں معصیت و گناہ کے کانٹوں سے بچ بچ کر گزرنے اور جن کا موں پر اللہ تعالیٰ اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے ان کو اختیار کرنے کا نام تقویٰ ہے پورے ایک مہینے کی تربیت کا کورس اس لئے مقررر ہوا کہ مزاج اس کا عادی ہوجائے اور سال کے گیارہ مہینوں کی زندگی میں اس کا عکس نمایاں ہو۔ یہ سمجھنا ہرگز درست نہیں کہ اس مبارک مہینے میں جس میں ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ستر گنا اجر ملتاہے خوب خوب نیکی کرکے ڈھیر سا را ثواب کمالیا جائے اور سال کے باقی دنوں میں خود کو بالکل بے لگا م اورآزاد چھوڑدیا جائے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ اپنے کو دھوکہ میں مبتلا کرتاہے دراصل اسلام ایک ایسا دین ہے جو پوری زندگی اور انسانوں کے تمام افعال و اعمال پر حاوی ہے دوسرے مذاہب میں اس طرح کی تقسیم ہے کہ وہ زندگی کو خانوں میں بانٹ دیتے ہیں اور عبادت گاہ میں جا کر عبادت و بندگی کے بعد دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے اختیار واقتدار کو تسلیم نہیں کرتے لیکن اسلام ایسی کسی تقسیم کا قائل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں فرمایا ہے کہ تم پرروزہ فرض کیا گیا تاکہ تم پرہیز گاربن جاؤ وہیں یہ بھی ارشاد ہو اکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کیلئے ہدایت ہے اورجوحق کو باطل سے الگ کرتاہے ۔ رمضان کے مہینہ اور قرآن کے درمیان صرف یہی تعلق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عظیم کتاب ا س بابرکت مہینہ میں نازل ہوئی بلکہ یہ تعلق بھی ہے کہ قرآن کو جس طرح انسان مطلوب ہے یہ اس کی تربیت اور مشق کا مہینہ بھی ہے اس لئے اس مہینہ میں قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی تاکید کی گئی ہے اسی مہینے میں جبرئیل امین نبی کریم ﷺکو پورا قرآن پڑھ کر سناتے تھے اورخود نبی کریم ﷺ بھی ایسا ہی کرتے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس مہینہ کو قرآن مجید سے کیا گہر اتعلق ہے۔

بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایک بار پھر رمضان المبارک کی نیکیوں اور سعادتوں سے اپنا دامن بھرنے کا موقعہ ملا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہ ے کہ وہ ہمیں قوت اور ہمت عطا کرے کہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب ہوسکیں، مئی جون کا مہینہ گرمیوں کے شباب کا مہینہ ہے اس بار بہا ر گرمی کی لہر سے بچاہوا ہے لیکن شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور تپش پورے عروج پر ہے لیکن اللہ کی رضا ور خوشنودی کے لئے زیادہ اجر و ثواب بہر حال نیکیوں اور رحمتوں کے خزانے کھل گئے ہیں اور دینے والا پکار پکار کر کہہ رہا ہے لوگو آؤ اور اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق اپنا دامن بھر کرلے جاؤ باٹنے والے کے خزانے میں کوئی کمی نہیں مسئلہ کو تاہی ظرف اور تنگی دامن کا ہے آئیے ہم سب اپنا دامن پھیلادیں اورجو کچھ سمیٹ سکتے ہوں سمیٹ لیں۔
؎

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button