اشعار و غزل

غزل نورالدین ثانی, صالحپور، کٹیہار

سہمی ہوئی ھے آج فضا گھٹ رہا ھے دم
زہریلی ہو گئی ھے ہوا گھٹ رہا ھے دم

سارے جہاں میں برپا قیامت سی ہو گئی
آئی ھے کیسی یار وبا گھٹ رہا ھے دم

جو بھی ھے بات آ کے سنا تو وہ روبرو
خاموشیوں پہ تیری مرا گھٹ رہا ھے دم

دنیا کے کہنے پے کبھی ہوتا نہ تھا ملال
تم نے کہا ھے جب سے بُرا گھٹ رہا ھے دم

میرے حبیب تجھ کو محبت کا واسطہ
میرے بھی حق میں کر دے دعا گھٹ رہا ھے دم

نورالدین ثانی, صالحپور، کٹیہار

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
Close