اشعار و غزل

نظم : دنیا کہتی ہے بوجھ ہوں میں : عرشیہ انجم

نظم
بوجھ
عرشیہ انجم

دنیا کہتی ہے بوجھ ہوں میں
کوئی بتائے کیسی بوجھ ہوں میں

جب سے ہوش سنبھالا ہے
میں نے سب کا بار اٹھایا ہے

چھوٹی سی عمر میں بھی
جھوٹے بھائی بہن کو بہلایا ہے

میں نے ماں کو فرصت کے لمحات دیے
اس کے ہر کام‌ میں ہاتھ بٹایا ہے

رشتہِ ازدواج میں بندھ کر
شوہر کے گھر کو رونق بخشی ہے

میرے وجود میں پنہاں ہے اس کا سکوں
میری ذات‌ میں ضم ہو کر

اس کی ذات مکمل ہوتی ہے
اس کی نسلوں کی افزائش میرے بطن میں

اولاد کی پیدائش سے لیکر
اس کو جوان کرنے تک

ہر تکلیف میں سہتی ہوں
اُس کی راہ سے کانٹے چن چن کر

خود زخمی میں ہوتی ہوں
اس کی نیند کی خاطر اکثر

میں آنکھوں میں رات گزاروں
دنیا دیکھوں اس کی نظر سے

پھر بھی دنیا کہتی ہے بوجھ ہوں میں
اب اس بوجھ کے رنگ تو دیکھو

اس کے اصلی ڈھنگ تو دیکھو
ماں کو جب پیش آتی ہے دقت

کمزور ہو جاتے ہیں ‌‌‌‌جب باپ کے کندھے
کچھ کہنا ہو کچھ سننا ہو

یہ آواز مجھ کو دیتے ہیں
بیٹی آجاؤ کچھ دِن

اپنے بوڑھے ماں باپ کی خاطر
بھائی تمہارے ہو گئے ہیں پرائے

تُم ہی تو سمجھتی ہو درد ہمارا
بہت تنہا ہو گئے ہیں ہم

آؤ کچھ دن ہمارے ساتھ رہو
تنہائی کا بوجھ ہلکا کر دو

اب کوئی بتائے مجھ کو
اک بوجھ ہلکا کرنے والی کو
یہ دنیا بوجھ کیوں کہتی ہے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close